کھوٹے سکے

 

بغداد میں ایک نانبائی تھا، وہ بہت اچھے نان کلچے لگاتا تھا اور دور دور سے دنیا اس کے گرم گرم نان خریدنے کے لیے آتی تھی۔ کچھ لوگ بعض اوقات اسے کھوٹا سکہ دے کر چلے جاتے جیسے یہا ں ہمارے ہاں بھی ہوتے ہیں۔ وہ نانبائی کھوٹا سکہ لینے کے بعد اسے جانچنے اور آنچنے کے بعد اپنے  ’’گلے‘‘ (پیسوں والی صندوقچی) میں ڈال لیتا تھا۔ کبھی واپس نہیں کرتا تھا اور کسی کو آواز دے کر نہیں کہتا تھا کہ تم نے مجھے کھوٹا سکہ دیا ہے۔ بے ایمان آدمی ہو، وغیرہ۔ بلکہ محبت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا تھا۔  جب اس نانبائی کا آخری وقت آیا تو اس نے پکار کر اللہ سے کہا۔ ’’اے اللہ! تو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لے کر انہیں اعلیٰ درجے کے خوشبودار گرم گرم صحت مند نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے۔ آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت لے کر آرہا ہوں، وہ اس طرح سے نہیں جیسی تو چاہتا ہے۔ میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ جس طرح سے میں نے تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کردے۔ میرے پاس اصل عبادت نہیں ہے۔‘‘

(’’زاویہ ۔ ۲‘‘ از اشفاق احمد سے اقتباس)


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter