آج 24  جولائی کا دن اردو ادب میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آج کے دن اردو ادب دو نامور شخصیات سے محروم ہوگیا۔ ان میں ایک نام جگن ناتھ آزاد اور دوسرا نام قدرت اللہ شہاب کا ہے۔ ذیل میں ہم ان دونوں شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

قدرت اللہ شہاب

 

پاکستان کے نامور ادیب، بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب 26 فروری 1917 میں گلگت میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جموں و کشمیر اور موضع چمکور صاحب ضلع انبالہ میں حاصل کی، گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگلش کیا اور 1941 میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے بعد ازاں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہوئے۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی مساعی سے عمل میں آئی۔ ان کی تصانیف میں ’’یاخدا‘‘، ’’نفسانے‘‘، ’’ماں جی‘‘ اور ان کی خودنوشت سوانح حیات ’’شہاب نامہ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ شہاب نامہ اردو ادب کی وہ زندہ و جاوید کتاب ہے جو فن اور فکر کا حسین امتزاج بھی ہے۔ شہاب نامہ پڑھ کے ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے قدرت اللہ شہاب کو معلوم ہے کہ قاری کے دل میں گھر کیسے کیا جاتا ہے ؟ویسے تو ان کی تمام تصانیف قابل ذکر ہیں لیکن اُن کی خودنوشت شہاب نامہ نے مقبولیت کے جو یکارڈ بنائے وہ بہت کم کتابوں کے حصے میں آتے ہیں۔

قدرت اللہ شہاب نے 24 جولائی 1986 کو اسلام آباد میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔

 

جگن ناتھ آزاد

 

جگن ناتھ آزاد 5 دسمبر 1918 کو عیسیٰ خیل ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان میں ہے۔ ان کے والد تلوک چند محروم اردو کے مشہور و معروف شاعر تھے۔ آزاد کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی اپنے والد کے ہاتھوں ہوئی۔ جگن ناتھ آزاد نے 1933 میں میانوالی سے میٹرک اور1937 میں گارڈن کالج راولپنڈی سے بی اے کیا۔ اس کے بعد وہ لاہور آگئے۔  یہاں سے 1942 میں فارسی آنرز کیا اور 1944 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فارسی میں ایم اے کیا۔ جگن ناتھ آزاد کی ادبی زندگی کا باضابطہ آغاز لاہور سے ہی ہوتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور سے دہلی منتقل ہوگئے۔ قیام پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے ان کا لکھا ہوا قومی ترانہ نشر کیا گیا۔  ان کے شعری مجموعوں کا نام ’’طبل و علم‘‘ ، ’’بیکراں‘‘ ہے۔ جگن ناتھ آزاد بیک وقت شاعر، ادیب، صحافی، مترجم اور نثرنگار ہیں۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی لیکن اردو ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔

جگن ناتھ آزاد 24 جولائی 2004 کو انتقال کرگئے۔


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter