آج مورخہ 4 اگست اردو ادب میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ آج اردو شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد امجد اسلام امجد اور اردو کے عظیم مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی سالگرہ ہے۔ ذیل میں ہم ان دونوں عظیم شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

مشتاق احمد یوسفی

 

اردو ادب میں مزاح نگاری کے حوالے سے ایک بہت بڑا نام مشتاق احمد یوسفی کا ہے۔ طنز و مزاح نے تو مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں انتہائی عروج کی منزل طے کرلی ہے جو شاید اردو ادب کو میسر ہوسکتی تھی۔ مشتاق احمد یوسفی 4 اگست 1923 کو ٹونک (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے معاشیات میں ایم اے کیا اور پھر بینکاری کے شعبے کو ذریعہ معاش بنایا۔ وہ کئی بینکوں کے سربراہ رہے اور پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ مشتاق احمد یوسفی کا شمار اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی تصانیف میں ’’چراغ تلے‘‘، ’’خاکم بدہن‘‘، ’’زرگزشت‘‘ اور ’’آبِ گم‘‘ شامل ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی نے بے ساختگی اور بے تکلفی سے اردو کے مزاحیہ ادب میں بڑے روشن اور بھرپور اضافے کئے ہیں۔ ان کے مزاح میں چھپے ہوئے طنز کے نشتر معاشرے کے ناسوروں میں جاکر چبھتے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی کراچی میں مقیم ہیں۔

 

امجد اسلام امجد

 

ستارۂ امتیاز، پرائڈ آف پرفارمنس سمیت درجنوں ملکی اور بین الاقوامی ایوارڈ کے حامل برصغیر پاک و ہند کے عظیم شاعر، ڈراما نگار، نقاد امجد اسلام امجد 4 اگست 1944 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ امجد اسلام امجد نے آبائی شہر سیالکوٹ لاہور میں تعلیم حاصل کی اور ایم اے او کالج لاہور سے ایک لیکچرار کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا ۔ 1975 سے  1979 تک پاکستان ٹیلی ویژن پر ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اس کے بعد دوبارہ اسی کالج میں آگئے۔ 1997 میں ڈائریکٹر جنرل اردو سائنس بورڈ مقرر ہوئے۔ چلڈرن لائبریری کمپلیکس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رہے۔ چالیس کتابوں کے مصنف ہیں۔ بیشمار سفر نامہ، تنقید، تراجم اور مضامین لکھے۔ نیشنل ایوارڈ یافتہ ہیں۔ گو ان کی شہرت ان کے ڈراموں کی بدولت ہے لیکن ان کی حقیقی پہچان ان کی وہ نظمیں ہیں جن میں زندگی کے تمام تر پہلو اپنی تمام تر دلکشی اور مٹھاس لئے ہوئے ہیں۔  1975 میں ٹی وی ڈراما ’’خواب جاگتے ہیں‘‘ پر گریجویٹ ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ مشہور ڈراموں میں ’’وارث‘‘، ’’دن‘‘، ’’فشار‘‘ شامل ہیں۔ ایک شعری مجموعہ برزخ اور جدید عربی نظموں کے تراجم عکس کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تنقیدی مضامین کے ایک کتاب ’’تاثرات‘‘ بھی ان کی تصنیف کردہ ہے۔ 


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter