22 اگست کا دن اردو ادب کی تاریخ کا اہم دن ہے۔ آج معروف ادیب، ڈراما نگار، دانشور، صوفی جناب اشفاق احمد اور معروف شاعرہ ادا جعفری کا یوم پیدائش ہے۔ ذیل میں ہم ان دونوں معروف شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔ اشفاق احمد معروف ادیب، ڈراما نگار، دانشور، صوفی جناب اشفاق احمد کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ اشفاق احمد 22 اگست 1925 کو بھارت کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان پور میں پیدا ہوئے، ان کی پیدائش کے بعد ان کے والد کا تبادلہ خان پور سے فیروز پور ہوگیا۔ اشفاق احمد نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز اسی گاؤں سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد اشفاق احمد فیروز پور (بھارت) سے ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا۔ اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبل یونیورسٹی (فرانس) سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کئے۔ نیویارک یونیورسٹی سے براڈ کاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ دیال سنگھ کالج (لاہور) میں دو سال تک اردو کے استاد رہے۔ بعد ازاں روم یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ پاکستان واپسی پر ادبی مجلہ ’’داستان گو‘‘ جاری کیا اور اپنے گھر کا نام بھی ’’داستان سرائے‘‘ (لاہور) رکھ لیا۔ جن دنوں اشفاق احمد گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے کے طالب علم تھے، بانو قدسیہ ان کی ہم جماعت تھی، ذہنی ہم آہنگی دونوں کو اس قدر قریب لے آئی کہ دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ ان کی مشہور تصانیف میں ایک محبت سو افسانے، اجلے پھول، سفر در سفر، کھیل کہانی، سفر مینا، ایک محبت سو ڈرامے، توتا کہانی، من چلے کا سودا وغیرہ شامل ہیں۔ ’’دھوپ اور سائے‘‘ کے نام سے فلم بنائی اور پی ٹی وی پر علم و حکمت سے بھرپور پروگرام ’’زاویہ‘‘ بھی کرتے رہے۔ اشفاق احمد اردو ادب کی تاریخ میں ایک چمکتے ہوئے ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تصانیف کی بدولت اردو ادب کے دامن کو مالا مال کردیا ہے۔ اشفاق احمد 7 ستمبر 2004 کو لاہور میں انتقال فرماگئے۔ ادا جعفری ادا جعفری موجودہ دور کی وہ شاعرہ ہیں جن کا شمار بہ اعتبار طویل مشق سخن اور ریاضت فن کے صف اول کی معتبر شاعرات میں ہوتا ہے۔ ادا جعفری 22 اگست 1924 کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ ادا جعفری نے 13 برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ آپ کی شادی 1947 میں نور الحسن جعفری سے انجام پائی۔ شادی کے بعد ادا جعفری کے نام سے لکھنے لگیں۔ ان کے شعری مجموعے ’’شہر درد‘‘ کو 1968 میں آدم جی ایوارڈ ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خودنوشت سوانح عمری بھی 1995 میں لکھی۔ 1991 میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز سے نوازا۔ ادا جعفری نے جاپانی صنف سخن ہائیکو پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی ہائیکو کا مجموعہ ’’ساز سخن‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ان کی دیگر تصانیف میں میں ساز ڈھونڈتی رہی، شہر درد، غزالاں تم تو واقف ہو، ساز سخن بہانہ ہے، موسم موسم، جو رہی سو بے خبری رہی شامل ہیں۔

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter