9 ستمبر کا دن اردو ادب کی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ آج اردو کے معروف شعرا جگر مراد آبادی اور اختر شیرانی کی برسی ہے۔ ذیل میں ہم ان دونوں شعرا کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

جگر مراد آبادی

 

جگر مراد آبادی کا اصل نام علی سکندر تھا۔ وہ بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر مراد آباد میں 6  اپریل کو پیدا ہوئے۔ عربی و فارسی اور اردو کی تعلیم انہوں نے مراد آباد کے ایک مدرسے سے حاصل کی۔ ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے وہ چشمے کی ایک دکان سے وابستہ ہوگئے۔ اسی دوران انہوں نے شاعری بھی شروع کردی تھی۔ جگر کی شاعری نے عوام کے دلوں میں اس طرح گھر کرلیا تھا کہ پھر انہوں نے شاعری کو ہی اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ ان کے تین شعری مجموعے ’’داغ جگر‘‘ ، ’’شعلۂ طور‘‘ اور ’’آتش گل‘‘ شائع ہوئے۔ جگر مراد آبادی خالص تغزل کے شاعر ہیں اور ان کے یہاں جو شیفتگی اور وارفتگی ہے اس کی دوسری مثال نہیں ملتی اسی لئے انہیں کبھی شہنشاہِ تغزل اور کبھی رئیس المتغزلین کہا گیا۔

گزشتہ صدی میں جن شعرا نے مشاعروں کے حوالے سے بہت نام کمایا ان میں سب سے اہم نام جگر مراد آبادی کا ہے۔ مشاعروں کے افق پر وہ نصف صدی تک چھائے رہے۔ جگر مراد آبادی کی غزلوں، نظموں اور گیتوں نے ان کو دنیائے اردو ادب میں ایک لافانی شاعر بنادیا ہے۔ جگر مراد آبادی بلاشبہ اردو شاعری کا بالعموم اور اردو غزل کا بالخصوص ایک ایسا روشن نام ہے جو زمانے گزرنے اور زمانے بدلنے کے باوجود زندہ و تابندہ رہے گا۔

ان کا انتقال 9 ستمبر 1960 میں ہوا۔

جان ہی دے دی جگر نے آج پائے یار پر

عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا

 

اختر شیرانی

 

بیسویں صدی کے جن اردو شعرا نے رومانوی شاعر کی حیثیت سے نام پیدا کیا ان میں اختر شیرانی کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ اختر شیرانی کا اصل نام محمد داؤد خان تھا۔ وہ 4 مئی 1905  کو بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے ٹونک میں پیدا ہوئے۔ وہ چھوٹی عمر میں ہی لاہور چلے آئے۔ انہوں نے منشی فاضل اور ادبی فاضل کیا، یہ عربی اور فارسی کی ڈگریاں تھیں۔ اپنے والد کی تمام تر کاوشوں کے باوجود وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور کل وقتی شاعر بن گئے۔ مولانا تاجور نجیب آبادی ان کے استاد تھے۔ اختر شیرانی بہت اختراع پسند تھے، انہوں نے اردو شاعری کو نئی سمتوں اور زاویوں سے آشنا کیا۔ انہیں شاعر رومان کا خطاب دیا گیا۔ ان کے مجموعی طور پر 9 شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں اخترستان، نگارشات اختر، لالہ طور، طیور آوارہ، نغمہ حرم، صبح بہار اور شہناز شامل ہیں۔ وہ ادبی جرائد سے بھی وابستہ رہے۔ اختر شیرانی کی شاعری کے بنیادی اوصاف میں نغمگی، رجاؤ، لطافت اور اختراع پسندی شامل ہے اس کے علاوہ انہوں نے فطرت نگاری بھی بڑے شاندار انداز میں کی۔

شاعر رومان اختر شیرانی کا انتقال 9  ستمبر 1948 کو ہوا اور لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ اردو ادب میں جب بھی رومانوی شاعری کا ذکر ہوگا اختر شیرانی کا نام سرفہرست ہوگا۔


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter