مونچھیں تراشنا

 

مونچھیں تراشنا ایک مشکل فن ہے کہ بندہ ساری زندگی یہ کام کرنے کے بعد بھی اس میں ماہر نہیں ہوتا۔ البتہ وہ متحمل مزاج اور متوازن شخصیت کا مالک ضرور ہوجاتا ہے کہ مونچھیں تراشنا جلد بازاور انتہا پسند شخص کے بس کا روگ نہیں۔ مونچھیں تراشنے والا تو جیب تراش کی طرح ہوتا ہے کہ ذرا سی غلطی ہوجائے، دونوں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔

شروع میں جب انسان کے پاس سر چھپانے کو جگہ نہ تھی، قدرت نے اس کے سر پر بالوں کا جنگل اگادیا جس میں وہ چھپ گیا۔ جب وہ عمر کے اس حصے میں پہنچا جہاں اسے منہ چھپانے کی ضرورت پیش آئی تو یہ جنگل پھیل کر اس کے چہرے تک آگیا۔ پھر جب اس نے گارے اور پتھر کی دیواریں اوڑھیں تو وہی بال جنہیں وہ خود کو چھپانے کے لئے استعمال کرتا تھا انہیں تراش کر خود کو نمایاں کرنے کے لئے استعمال کرنے لگا۔ یوں انسانی تہذیب کی بنیاد اس دن پڑی جس روز پہلے انسان نے اپنے بال تراشے۔ شاید اسی لئے ہمارے ہاں ہر نئے پیدا ہونے والے بچے کو اس مہذب دنیا کا ممبر بنانے کے لئے سب سے پہلے ایک خصوصی تقریب میں اس کے بال ہی تراشے جاتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں آج کے انسان اور جانور میں بس یہی فرق رہ گیا ہے کہ انسان بال تراشتا ہے، جانور نہیں۔

بچپن معصومیت اور جوانی اس سے بغاوت کا نام ہے جبکہ بڑھاپا اس بغاوت کی سزا ہے۔ شاید اسی لئے جب بچہ معصومیت کی ’’حدود‘‘ پھلانگتا ہے اور دوسروں کو نقصان پہچانے کے قابل ہوتا ہے تو قدرت اس کے چہرے پر ناک کے نیچے بالوں کی ایک سیاہ لائن لگادیتی ہے بلکہ ناک تو بنائی ہی مونچھوں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے۔ یہ لائن اتنی پکی ہوتی ہے کہ آپ ساری زندگی استرا ہاتھ میں رکھیں پھر بھی اسے نہیں مٹاسکتے، لیکن میرا دوست ’’ف‘‘ کہتا ہے ’’مونچھیں احتجاجی بینر ہیں جو ہم نے بچپن چھن جانے کے خلاف چہروں پر لٹکارکھے ہیں۔‘‘ حالانکہ اس کی مونچھیں دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ یہ بینر اس کے چہرے پر نہیں بلکہ اس کا چہرہ اس بینر پر لٹکا ہوا ہے۔ کہتا ہے ’’مچھ نہیں تو کچھ نہیں۔‘‘ واقعی اس کی مچھ نہ ہوتی تو کچھ نہیں رہتا۔ ذرا سی ہوا چلے تو اس کی مونچھیں یوں پھڑپھڑانے لگتی ہیں جیسے کوئی پرندہ وزنی چیز اٹھانے کی کوشش میں ہو۔ دور سے دیکھو تو لگتا ہے جیسے اس نے سیاہ کپڑے میں منہ لپیٹ رکھا ہے۔ جب اس کی مونچھیں چھوٹی چھوٹی تھیں تو وہ انہیں اپنے ہاتھ سے گھی اور مکھن کھلاتا۔ اب تو ماشا اللہ اتنی بڑی ہوگئی ہیں کہ یہ کام خود ہی کرنے لگی ہیں۔ اس لئے وہ کھانا کھاتے وقت مونچھیں یوں اٹھائے ہوتا ہے جیسے سہرا اٹھا کر کھانا کھارہا ہو۔ محلے میں کوئی شرارت کرے تو سزا کے طور پر اس کا منہ چومتا ہے۔ یہاں تک کہ نومولود پیدائش کے وقت نہ روئے تو فوری طور پر اس کا چہرہ دکھاتے ہیں۔ یہ صرف اس لئے ہے کہ موصوف میں مونچھیں تراشنے کی صلاحیت نہیں۔ کہتا ہے ’’مونچھیں تراشنے کے لئے صلاحیت کی نہیں بس قینچی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ اسے کون بتائے کہ اس کام کے لئے قینچی اتنی ضروری نہیں ہوتی جتنی عقل۔ بڑی مونچھیں توبدمعاشی کا داخلہ فارم ہیں کیونکہ بے ترتیب مونچھوں والا دنیا میں کہاں ترتیب لائے گا۔ وہ امن پسند نہیں ہوسکتا۔

مونچھیں چہرے کا لباس ہیں، شاید اسی لئے عورتوں کی نہیں ہوتیں۔ مونچھیں تراشنا لباس کو ماحول، مرضی اور مزاج کے مطابق ڈھال کر پہننے کے قابل بنانے کا نام ہے۔ جیسے بچوں کی ساری شخصیت ان کی آنکھوں میں اور عورتوں کی دیکھنے والوں کی آنکھوں میں سمٹ آتی ہے، ایسے ہی مرد کی پوری شخصیت ان کی مونچھوں کی بناوٹ میں ہوتی ہے۔ یہ مردوں کا شناختی کارڈ ہیں۔ انہیں دیکھ کر یہ پتہ چلے نہ چلے کہ یہ کیا کرتا ہے، یہ ضرور پتہ چل جاتا ہے کہ کیا کرنا چاہتا ہے۔

ہمارے ہاں مونچھ بلوغت کی علامت ہے اور داڑھی بلاغت کی۔ مونچھ کی علیحدہ حیثیت اور شخصیت تو حکومت بھی مانتی ہے۔ جسم کے کسی اور حصے کا الاؤنس اس وقت ملتا ہے جب وہ نہ رہے اور مونچھ الاؤنس اس وقت جب یہ چہرے پر موجود ہو۔ مونچھ مرد کا زیور ہے۔ گاؤں میں تو مونچھیں منڈوا کر پھرنے سے بے پردگی ہوتی ہے۔ بڑے بوڑھے سخت برا مناتے ہیں۔ کیونکہ ان کی نظریں اتنی کمزور ہوچکی ہوتی ہیں کہ انہوں نے مونچھیں دیکھ کر ہی یہ اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ آیا ہے یا آئی ہے۔ اور تو اور جب تک مونچھ نہ ہو کوئی پنجابی فلم نہیں بن سکتی۔ پہلے تو اردو فلموں میں بھی اس کی ضرورت پڑتی تھی اور وہ ہیرو کے ناک کے نیچے یوں لیٹی ہوتی جیسے کسی اہم سطر کو کالی پنسل سے انڈر لائن کیا گیا ہے۔

درخت زمین کے چہرے پر اگے بال ہیں جو گھنے ہوکر جنگل کی صورت میں زمین کی مونچھیں بناتے ہیں جن سے ڈر کر ہوائیں اس علاقے میں مٹی نہیں اڑاتیں اور مٹی سبز چادر اوڑھ کر سامنے آتی ہے۔ بادل ان کے خوف سے اوپر سے گزرتے گزرتے پسینہ پسینہ ہوجاتے ہیں اور جب ان مونچھوں کو تراش لیا جائے تو یہ پارک اور باغ بن جاتی ہیں۔ ایسے ہی چہرے کی مونچھیں تراشنے کے بعد نہ صرف آپ کے چہرے پر بلکہ دیکھنے والے کے چہرے پر بھی ملائمت آجاتی ہے۔

مونچھیں آپ کے برے وقت کی ساتھی ہیں۔ آپ کسی کی گردن نہیں مروڑ سکتے تو اپنی مونچھیں مروڑ کر غصہ نکال سکتے ہیں۔ آپ پریشان ہیں، کسی کا انتظار کررہے ہیں تو ان پر ہاتھ پھیر کر وقت گزار لیں۔ آپ کو باغبانی کا شوق ہے تو مونچھوں کی پرورش اور کانٹ چھانٹ کرکے اپنا شوق پورا کرسکتے ہیں۔ مونچھیں تو مردوں کا ایکسلریٹر ہیں، اس لئے وہ لڑنے سے پہلے مونچھوں کو بل دیتے ہیں۔

مونچھیں تراشنا میری پسندیدہ ان ڈور گیم ہے۔ اس کھیل میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بندہ اپنی مرضی سے کسی بھی وقت اکیلا کھیل سکتا ہے۔ مگر یہ بچوں کا کھیل نہیں کیونکہ یہ ہار اتنی مہنگی ہے کہ ہارنے والے کو ہفتوں منہ چھپائے رہنا پڑتا ہے۔ اس لئے تو مقابلوں میں بڑی سے بڑی شرط یہی لگائی جاتی ہے کہ ہار گیا تو مونچھیں منڈوا دوں گا۔ شاید اسی لئے شادی کے بعد اکثر لوگ مونچھیں صاف کروا دیتے ہیں۔ میں تو بڑا ڈرتے ڈرتے مونچھوں کو قینچی لگاتا ہوں اور ڈرنے میں برائی ہی کیا ہے؟

مونچھیں تراشنا دراصل توازن برقرار رکھنے کا نام ہے۔ دنیا میں پہلی کلین شیو اس دن ہوئی جب مونچھیں تراشنے والے سے ایک مونچھ چھوٹی ہوگئی اور دوسری بڑی۔ بڑی کو چھوٹی کرنے کی کوشش کی تو چھوٹی بڑی ہوگئی اور یوں ہوتے ہوتے کلین شیو ہوگئی۔ میں جب دنیا کی بڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں قینچیاں دیکھتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں۔ کیونکہ ایک بار ہٹلر نے توازن بگاڑا تھا تو مونچھ سکڑ کر مکھی مونچھ بن گئی تھی۔ اگر اب توازن بگڑ گیا تو پھر دنیا کو کلین شیو ہونے سے کوئی نہ بچاسکے گا۔

(’’شیطانیاں‘‘ مونچھیں تراشنا۔ ڈاکٹر محمد یونس بٹ کے قلم سے)


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter