نفس کی سازباز

 

جب ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو ابلیس نے دعویٰ کیا کہ وہ انسان کو بہکائے گا اور اسے اللہ کی رحمت سے مایوس کرے گا۔ باری تعالیٰ نے روز قیامت تک ابلیس کو مہلت دی۔ ابلیس کا دعویٰ بے بنیاد نہ تھا، پتہ ہے ابلیس کیا کرتا ہے، اس کی کارروائی کا طریقہ کیا ہے؟ ابلیس انسان کے نفس سے سازباز کرتا ہے، نفس میں امنگ، خواہش، ضرورت کو جگاتا ہے۔ جس قدر خواہش ناممکن ہوگی اس قدر ابلیس اسے عین ممکن کردکھائے گا۔ نفس اس قدر غالب آجائے گا کہ وہ پورے انسان کو بڑے کنویں جھنکوائے گا۔ کبھی پیروں فقیروں کے پیچھے، کبھی مزاروں کے طواف، کبھی اللہ کے حضور میں انسان اپنی خواہش کی عرضی ڈالے گا۔ جوں جوں خواہش کے پورے ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں انسان اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتا جائے گا۔ دولت کی ہوس، نام و نمود کی خواہش، عورت کا آزار، ایک کارخانہ کھلا ہے نفس کے اندر۔ وہ امید دلا دلا کر، کوشش پر آمادہ کرکے خواہش کے جال میں انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرتا ہے، جونہی انسان اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے، ابلیس اغوا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ پتہ نہیں انسان کے قلب پر کیا کیا گزرتی ہے۔۔۔۔۔۔!

(بانو قدسیہ کے ناول ’’حاصل گھاٹ‘‘ سے اقتباس)


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter