تابش دہلوی

 

آج مورخہ 23 ستمبر اردو کے ممتاز شاعر تابش دہلوی کی برسی ہے۔ دبستان دہلی کے آخری چراغ، اردو کے مایہ ناز غزل گو شاعر، دانشور اور براڈ کاسٹر تابش دہلوی کا اصل نام مسعود الحسن تھا، تابش تخلص اختیار کیا۔

تابش دہلوی نے 9  نومبر 1910 میں دہلی کے علمی گھرانے میں جنم لیا۔ انہوں نے 13 برس کی عمر میں پہلا شعر کہا جبکہ ان کی پہلی نظم 1931 میں نئی دہلی کے مشہور جریدے ساقی میں شائع ہوئی۔ 1932 میں پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ 1939 میں آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہوئے۔ ان کا آڈیشن پطرس بخاری نے یا اور انہیں پروگرام اناؤنسر کے لئے منتخب کیا جس کے کچھ عرصے بعد انہوں نے خبریں بھی پڑھنا شروع کیں۔ تقسیم ہند کے بعد 17 ستمبر 1947 کو ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور اپنی زندگی ریڈیو پاکستان کے لئے وقف کردی۔

شاعری میں آپ نے فانی بدایونی سے اصلاح لی۔ حکومت پاکستان نے تابش دہلوی کے علمی خدمات کے صلے میں انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔

ان کے شعری مجموعوں میں نیم روز، چراغ صحرا، غبار انجم، گوہر انجم، تقدیس، ماہ شکستہ اور دھوپ چھاؤں اور نثری تصانیف میں دید باز دید شامل ہیں۔

تابش دہلوی اپنے مخصوص لب و لہجے کے باعث جانے جاتے تھے۔

23 ستمبر 2004 کو تابش دہلوی کراچی میں وفات پاگئے اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

 


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter