ن م راشد

 

آج 9  اکتوبر اردو کے ممتاز جدید نظم گو شاعر ن م راشد کی برسی ہے۔ ن م راشد کا اصل نام راجا نذر محمد راشد تھا۔ آپ یکم اگست 1901 کو علی پور چٹھہ (موجودہ وزیر آباد، ضلع گوجرانوالہ) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ اسکول کے زمانے ہی سے راشد نے شعر گوئی شروع کردی تھی۔ اوائل زمانہ میں ان کا تخلص ’’گلاب‘‘ تھا۔  ’’ماورا‘‘ (پہلا مجموعہ کلام) آپ کی جدیدیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے بعد آنے والے مجموعوں میں ’’لاانسان‘‘، ’’ایران میں اجنبی‘‘ اور ’’گمان کا ممکن‘‘ شامل ہیں۔ ن م راشد علامہ مشرقی کی تحریک سے متاثر تھے اور باقاعدہ وردی پہن کر اور ہاتھ میں بیلچہ لے کر مارچ پاسٹ کیا کرتے تھے۔ راشد نے اردو شاعری کو ایک نیا آہنگ عطا کیا اور اسے جدیدیت سے روشناس کیا۔ ساقی فاروقی نے لکھا ہے کہ ایک زمانے میں فیض احمد فیض نے یہ اعلان کردیا تھا کہ وہ راشد جیسی انوکھی نظمیں نہیں لکھ سکتے کیونکہ راشد کا ذہن ان سے کہیں بڑا ہے۔ راشد نے میرا جی کی طرح داخلی، علامتی اور تجریدی نوعیت کی نظمیں کہی ہیں جو ہر شاعر کے بس کی بات نہیں ہوا کرتی۔ راشد نے خلائی دور کے انسان کے لئے مذہب کی اہمیت اور ضرورت جیسے موضوع تک پر قلم اٹھایا۔

ن م راشد نے اپنی زندگی مختلف ممالک میں بسر کی۔ زندگی کے آخری ایام میں وہ لندن میں مقیم تھے جہاں وہ 9 اکتوبر 1975 کو وفات پاگئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ان کی لاش کو نذر آتش کردیا گیا۔


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter