آج مورخہ 13 اکتوبر اردو زبان کے معروف مصنف اور ڈرامہ نگار امتیاز علی تاج اور عالمی شہرت یافتہ گلوکار، موسیقار اور پاکستان کے مایہ ناز قوال نصرت فتح علی خان کا یوم پیدائش ہے۔ ذیل میں ہم ان دونوں شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

امتیاز علی تاج

 

امتیاز علی تاج پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے معروف مصنف اور ڈرامہ نگار تھے۔ 13 اکتوبر 1900میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام امتیاز علی اور عرفیت تاج تھی۔ آپ کے والد سید ممتاز علی دیوبند ضلع سہارنپور کے رہنے والے تھے جو خود بھی ایک بلند پایہ مصنف تھے۔ امتیاز علی تاج کی والدہ بھی مضمون نگار تھیں۔

امتیاز علی تاج نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ سینٹرل ماڈل اسکول سے میٹرک پاس کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کی سند حاصل کی۔ انہیں بچپن ہی سے علم و ادب اور ڈرامہ سے دلچسپی تھی۔ دوران تعلیم ایک ادبی رسالہ (کہکشاں) نکالنا شروع کیا۔ ڈرامہ نگاری کا شوق کالج میں پیدا ہوا۔ گورنمنٹ کالج کی ڈرامیٹک کلب کے سرگرم رکن تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے لاہور ریڈیو کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کیں۔ کچھ عرصہ آرٹ کونسل لاہور کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ مجلس ترقی ادب لاہور کے سیکریٹری بھی مقرر ہوئے۔ انہوں نے ڈراما، ڈرامے کی تحقیق اور تنقید، افسانے، بچوں اور عورتوں کے لئے مضامین اور کہانیاں اور کئی فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھے اور کچھ فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔

ڈرامہ کے فن میں اتنی ترقی کی کہ 22 برس کی عمر میں ڈرامہ (انار کلی) لکھا جو اردو ڈرامہ کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد بچوں کے لئے کئی کتابیں لکھیں۔ کئی ڈرامے اسٹیج، فلم اور ریڈیو کے لئے تحریر کئے۔ انہوں نے بہت سے انگریزی اور فرانسیسی زبان کے ڈراموں کا ترجمہ کیا اور یہاں کے ماحول کے مطابق ڈھال لیا۔ ’’قرطبہ کا قاضی‘‘ انگریز ڈرامہ نویس لارنس ہاؤس مین کے ڈرامے کا ترجمہ ہے اور ’’خوشی‘‘ پیٹرویبر فرانسیسی ڈرامہ نگار سے لیا گیا ہے۔ ’’چچا چھکن‘‘ ان کی مزاح نگاری کی عمدہ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ محاصرہ غرناطہ (ناول) اور ہیبت ناک افسانے بھی مشہور ہوئے۔

امتیاز علی تاج آخری عمر میں مجلس ترقی ادب لاہور سے وابستہ رہے۔ آپ کی زیر نگرانی مجلس نے بیسیوں کتابیں نہایت خوب صورت انداز میں شائع کیں۔ آپ نے متعدد اردو ڈراموں کو بھی ترتیب دیا۔

۔ انہوں نے اردو ڈرامے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی سو سے زائد تصانیف، تراجم اور تالیفات ہیں جن میں شاہجہاں، روشن آرا، سوت کا راگ، کمرہ نمبر ۵، گونگی جورو اور موت کا راگ وغیرہ شامل ہیں۔

امتیاز علی تاج کو حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز اور ڈرامے کے صدارتی اعزاز سے نوازا۔ 19  اپریل 1970 میں رات کے وقت دو سنگ دل نقاب پوشوں نے ان کو قتل کردیا۔

 

نصرت فتح علی خان

 

عالمی شہرت یافتہ گلوکار، موسیقار اور قوال نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے۔ ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کرکے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی۔ استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق و مغرب میں مقبول عام بنانے میں صرف کردی۔ انہوں نے مشرقی اور مغربی موسیقی کے امتزاج سے صوفیانہ کلام کو نیا انداز دیا۔ انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔

عالمی سطح پر جتنی شہرت نصرت فتح علی خان کو ملی وہ شاید کسی اور موسیقار یا گلوکار کے نصیب میں کم ہی آئی ہے۔ قوال کی حیثیت سے ایک سو پچیس آڈیو البم ان کا ایک ایسا ریکارڈ ہے جسے توڑنے والا شاید دور دور تک کوئی نہیں۔ ’’دم مست قلندر مست، علی مولا علی، یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، میرا پیا گھر آیا، اللہ ہو اللہ ہو اور کینا سوہنا تینوں رب نے بنایا جیسے البم ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ ان کے نام کے ساتھ کئی یادگار قوالیاں اور گیت بھی جڑے ہیں۔ نصرت فتح علی خان نے کئی بالی وڈ فلمز کی موسیقی بھی دی اور ساتھ ہی گایا بھی۔ ان کا بالی وڈ جیسی بڑی فلم انڈسٹری کے لئے بھی کام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ نصرت فتح علی خان کی آواز میں ایسا جادو تھا جو شاید کئی نسلوں کو اپنے حصار میں رکھے گا۔

جس کے لازوال فن کی تعریف ملکہ ترنم نورجہاں، شہنشاہ غزل مہدی حسن اور لتا منگیشکر جیسی ہستیاں کریں وہ واقعی سروں کی دنیا کا انمول ستارہ ہی ہوسکتا ہے۔ ان کی فنی خدمات کے صلے میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔

نصرت فتح علی خان گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور 16 اگست 1997 کو 48 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔ فن قوالی اور کلاسیکی موسیقی کو نئی جہتوں سے متعارف کرانے والے استاد نصرت فتح علی خان کی یادیں آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

 

 

 

 


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter