تنہائی

 

موسموں کے تغیر سے کہیں زیادہ رات کی آمد انسان کو خوفزدہ کرتی ہے۔ انسان کی سائیکی سے، نباتات کی روئیدگی سے، جانداروں کی نشونما سے، جمادات کی پوشیدہ طاقت و پختگی کے ساتھ، ہواؤں، سمندروں، چاند، ستاروں سے سورج کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ اگر کبھی کوئی شخص کھلی جگہ میں ہو، دریا کا کنارا، پہاڑ کا دامن، کھیتوں کی پگڈنڈی، کھلے کھلیان میں اگر وہ سورج سے بچھڑے تو اس کی سائیکی پر گونگا پن چھا جاتا ہے۔ اس طرح فرد فرد کی سائیکی کا یہ گونگا پن اجتماعی سائیکی کے گونگے پن کو جنم دیتا ہے۔ ایسی جگہوں میں جہاں لوگوں کا ہجوم ہو، جیسے سنیما گھر، ہسپتال، ہوٹل ان میں شام کے وقت عجیب قسم کی خاموشی ٹھہر ٹھہر کر وارد ہوتی ہے۔ بولتے ہوئے چہرے اجتماعی گونگے پن سے نجات حاصل کرنے کے لئے بولتے چلے جاتے ہیں اور خاموش لوگ اور اندر دھنستے جاتے ہیں اور اندر ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اندر محفلوں میں تنہائیوں کی نسبت بڑھنے لگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جلوت خلوت کا روپ دھارتی ہے اور لوگ الگ الگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا یہ احساس کہ وہ مجلس میں رہ کر کس قدر تنہا ہیں، بڑھتا جاتا ہے۔

(بانو قدسیہ کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ سے اقتباس)


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter