جنون

 

انسان جنون میں سب سے پہلے انسانیت کھوتا ہے، یہ بھول جاتا ہے میں انسان ہوں اور میرے سامنے موجود لوگ بھی انسان ہیں اور ہم سب ایک جیسے ہیں، گوشت پوست کے دھڑکتے پریشان ہوتے انسان جنہیں بارش گیلا، دھوپ گرم، برف ٹھنڈا، لوہا دکھی اور آگ جلادیتی ہے۔ یہ بھول جاتا ہے ہم سب ایک جیسے ہیں۔ دکھی، پریشان، متکبر، اکڑ خان، شیخی خور اور کنفیوژ۔ ہم سب ایک جیسے ہیں تشکیک کے شکار، تھڑدلے، جلد باز، چغل خور، ناراض اور منافق اور ہم سب ایک جیسے ہیں، چیختے چلاتے منتیں کرتے اور اگر ہاتھ میں ڈنڈا ہو تو فرعون۔ مگر جنون میں ہم یہ تمام حقیقتیں فراموش کربیٹھتے ہیں۔ ہم دوسرے انسان کا قیمہ بنادیتے ہیں۔

دنیا میں شیر کو شیر نہیں کھاتا، کتے پر کتے کا گوشت حرام ہوتا ہے، چیلیں چیلوں پر حملہ نہیں کرتیں اور حتیٰ کہ سور بھی سور کو نقصان نہیں پہنچاتا مگر انسان دوسرے انسان کو کھا جاتا ہے۔ یہ دوسرے انسان کو چیر پھاڑ جاتا ہے۔ یہ اس کا قیمہ کر ڈالتا ہے اور یہ اس کے بعد گلے میں جنون کا ڈھول لٹکا کر دیوانہ وار رقص کرتا ہے۔

(جاوید چوہدری کے کالم ’’شفیق عرف چھیکو‘‘ سے اقتباس)


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter