جون ایلیا

 

آج مورخہ 8 نومبر اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، فلسفی اور دانشور جون ایلیا کی برسی ہے۔ جون ایلیا 14 دسمبر 1937 کو امروہہ (اترپردیش) کے ایک نامور خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید جون اصغر تھا، وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔  جون ایلیا معروف صحافی رئیس امروہی اور فلسفی سید محمد تقی کے بھائی اور مشہور کالم نگار زاہدہ حنا کے سابق خاوند تھے۔ اس کے علاوہ جون کے بھانجے صادقین تھے جو ممتاز مصور اور خطاط ہونے کے ساتھ رباعی کے عمدہ شاعر بھی تھے۔ جون ایلیا کے والد علامہ شفیق حسن ایلیا کو فن اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل بھی انہی خطوط پر کی۔ انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 سال کی عمر میں لکھا۔ جون کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ عشق و محبت کے موضوعات کو اردو غزل میں دوبارہ لے آئے۔

جون ایلیا کو عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی زبان میں مہارت حاصل تھی۔  ان کی مطبوعہ نثری کتب میں حسن بن صباح، جوہر صقلی اور فرنود کے نام شامل ہیں جبکہ ان کے شعری مجموعے شاید، یعنی، لیکن، گمان اور گویا کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔ جون ایلیا اردو ڈائجسٹ شروع کرنے والے ابتدائی لوگوں میں سے تھے۔ انہوں نے شاعری کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی لیکن مشاعروں کے باعث انہیں بالعموم صرف غزل کا ہی شاعر خیال کیا جاتا ہے۔ جون نے کسی حد تک نظر انداز شدہ رومانوی مضامین کو دوبارہ اپنی غزل کا موضوع ضرور بنایا لیکن وہ روایت کے رنگ کے رنگ میں نہیں رنگے بلکہ انہوں نے اس قدیم موضوع کو ایسے منفرد انداز سے برتا کہ ان کی آواز پرانی ہونے کے ساتھ ہی ساتھ بیک وقت نئی بھی ہے۔ جون ایلیا کو اقدار شکن، نراجی اور باغی کہا جاتا ہے۔ ان کا حلیہ، طرز زندگی، حد سے بڑھی ہوئی شراب نوشی اور زندگی سے لاابالی رویے سے بھی اس کی غمازی ہوتی تھی لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اس طرز زندگی کو اپنے فن کی شکل میں ایسے پیش کیا کہ شخص اور شاعر مل گئے۔

فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی انسائیکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ انہوں نے 40  سے زائد کتب کے تراجم بھی کئے۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں 2000 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔

جون ایلیا 8 نومبر 2002 کو کراچی میں طویل علالت کے بعد وفات پاگئے۔ وہ سخی حسن قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے۔

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس

خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter