آب گم از مشتاق یوسفی سے انتخاب

 

حالانکہ اکلوتی بیٹی، بلکہ اکلوتی اولاد تھی اور بیوی کو شادی کے بڑے ارمان تھے، لیکن قبلہ نے مائیوں کے دن عین اس وقت جب میرا رنگ نکھارنے کے لئے ابٹن ملا جارہا تھا، کہلا بھیجا کہ دولھا میری موجودگی میں اپنا منہ سہرے سے باہر نہیں نکالے گا۔ دو سو قدم پہلے سواری سے اتر جائے گا اور پیدل چل کر عقد گاہ تک آئے گا۔ عقد گاہ انہوں نے اس طرح کہا جیسے اپنے فیض صاحب قتل گاہ کا ذکر کرتے ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ قبلہ کی دہشت دل میں ایسی بیٹھ گئی تھی کہ مجھے تو عروسی چھپرکھٹ بھی پھانسی گھاٹ لگ رہا تھا۔ انہوں نے یہ شرط بھی لگائی کہ براتی پلاؤ زردہ ٹھونسنے کے بعد ہرگز یہ نہیں کہیں گے کہ گوشت کم ڈالا اور شکر ڈیوڑھی نہیں پڑی۔ خوب سمجھ لو، میری حویلی کے سامنے بینڈ باجا ہرگز نہیں بجے گا اور تمہیں رنڈی نچوانی ہے تو اپنے کوٹھے پر نچواؤ۔

کسی زمانے میں راجپوتوں اور عربوں میں لڑکی کی پیدائش نحوست اور قہر الٰہی کی نشانی تصور کی جاتی تھی۔ ان کی غیرت یہ کیسے گوارا کرسکتی تھی کہ ان کے گھر برات چڑھے۔ داماد کے خوف سے وہ نوزائیدہ لڑکی کو زندہ گاڑ آتے تھے۔ قبلہ اس وحشیانہ رسم کے خلاف تھے۔ وہ داماد کو زندہ گاڑ دینے کے حق میں تھے۔

چہرے، چال اور تیور سے کوتوال شہر لگتے تھے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ بانس منڈی میں ان کی عمارتی لکڑی کی ایک معمولی سی دکان ہے۔ نکلتا ہوا قد، چلتے تو سینہ اور آنکھیں، تینوں بیک وقت نکال کر چلتے، ارے صاحب! کیا پوچھتے ہیں؟ اول تو ان کے چہرے کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، اور کبھی جی کڑا کرکے دیکھ بھی لیا تو بس لال بھبوکا آنکھیں نظر آتی تھیں۔

 

نگہِ گرم سے اک آگ ٹپکتی ہے اسد

 

رنگ گندمی آپ جیسا، جسے آپ اس گندم جیسا بتاتے ہیں جسے کھاتے ہی حضرت آدم، بیک بیوی و دو گوش جنت سے نکال دیئے گئے۔ جب دیکھو جھلاتے تنتناتے رہتے ہیں۔ مزاج، زبان اور ہاتھ کسی پر قابو نہ تھا۔ دائمی طیش سی لرزہ براندام رہنے کے سبب اینٹ، پتھر، لاٹھی، گولی، گالی، کسی کا بھی نشانہ ٹھیک تاؤ دیتے۔ آخری زمانے میں نہیں لگتا تھا۔ گچھی گچھی مونچھیں جنہیں گالی دینے سے پہلے اور بعد میں بھوؤں کو بھی بل دینے لگے۔ گھٹا ہوا کسرتی بدن ململ کے کرتے سے جھلکتا تھا۔ چنی ہوئی آستین اور اس سے بھی مہین چنی ہوئی دوپلی ٹوپی۔ گرمیوں میں خس کا عطر لگاتے۔ کیکری کی سلائی کا چوڑی دار پاجامہ، چوڑیوں کی یہ کثرت کہ پاجامہ نظر نہیں آتا تھا۔ دھوبی الگنی پر نہیں سکھاتا تھا۔ علیحدہ بانس پر دستانے کی طرح چڑھا دیتا تھا۔ آپ رات کے دو بجے بھی دروازہ کھٹکھٹا کر بلائیں تو چوڑی دار ہی میں برآمد ہوں گے۔

واللہ! میں تو یہ تصور کرنے کی بھی جرات نہیں کرسکتا کہ دائی نے انہیں چوڑی دار کے بغیر دیکھا ہوگا۔ بھری بھری پنڈلیوں پر خوب کھبتا تھا۔ ہاتھ کے بنے ریشمی ازار بند میں چابیوں کا گچھا چھنچھناتا رہتا۔ جو تالے برسوں پہلے بے کار ہوگئے تھے ان کی چابیاں بھی اس گچھے میں محفوظ تھیں۔ حد یہ کہ اس تالے کی بھی چابی تھی جو پانچ سال پہلے چوری ہوگیا تھا۔ محلے میں اس چوری کا برسوں چرچا رہا۔ اس لئے کہ چور صرف تالا، پہرہ دینے والا کتا اور ان کا شجرہ نصب چرا کر لے گیا تھا۔ فرماتے تھے کہ اتنی ذلیل چوری صرف کوئی عزیز رشتے دار ہی کرسکتا ہے۔ آخری زمانے میں یہ ازار بندی گچھا بہت وزنی ہوگیا تھا اور موقع بے موقع فلمی گیت کے بازو بند کی طرح کھل کھل جاتا۔ کبھی جھک کر گرم جوشی سے مصافحہ کرتے تو دوسرے ہاتھ سے ازار بند تھامتے، مئی جون میں ٹمپریچر 110 ہوجاتا اور منہ پر لو کے تھپڑ سے پڑنے لگتے تو پاجامے سے ایئرکنڈیشنگ کرلیتے۔ مطلب یہ کہ چوڑیوں کو گھٹنوں گھٹنوں پانی میں بھگو کر سر پر انگوچھا ڈالے، تربوز کھاتے۔ خس خانہ و برفاب کہاں سے لاتے۔ اس کے محتاج بھی نہ تھے۔ کتنی ہی گرمی پڑے، دکان بند نہیں کرتے تھے۔ کہتے تھے، میاں! یہ تو بزنس، پیٹ کا دھندا ہے۔ جب چمڑے کی جھونپڑی (پیٹ) میں آگ لگ رہی ہو تو کیا گرمی کیا سردی۔ لیکن ایسے میں کوئی شامت کا مارا گاہک آنکلے تو برا بھلا کہہ کے بھگادیتے تھے۔ اس کے باوجود وہ کھنچا کھنچا دوبارہ انہی کے پاس آتا تھا۔ اس لئے کہ جیسی عمدہ لکڑی وہ بیچتے تھے، ویسی سارے کانپور میں کہیں نہیں ملتی تھی۔ فرماتے تھے، داغی لکڑی بندے نے آج تک نہیں بیچی، لکڑی اور داغ دار؟ داغ تو دو ہی چیزوں پر سجتا ہے۔ دل اور جوانی۔

(آب گم سے انتخاب ۔ از مشتاق یوسفی)


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter