آج مورخہ 20 نومبر پاکستان کی ادبی تاریخ کا انتہائی اہم دن ہے۔ آج اردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض کا یوم وفات اور معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی اور مشہور ادیب و ڈرامہ نگار حسینہ معین کا یوم پیدائش ہے۔ ذیل میں ہم ان تینوں شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔

 

فیض احمد فیض

 

آج مورخہ 20 نومبر اردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض کا یوم وفات ہے۔

فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم مولوی محمد ابراہیم سیالکوٹی سے حاصل کی۔ بعد ازاں میٹرک کا امتحان مرے اسکول سیالکوٹ سے پاس کیا۔ آپ نے مولوی شمس الحق سے عربی اور اردو زبان سیکھی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پھر وہیں سے انگریزی میں ایم اے کیا اور پھر اورینٹل کالج سے عربی میں ایم اے کیا۔ 1951 میں آپ نے ایم اے او کالج امرتسر میں لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت کی۔ 1942 میں آپ فوج میں کیپٹن کی حیثیت سے شامل ہوگئے اور محکمہ تعلقات عامہ میں کام کیا۔ 1943 میں آپ میجر اور پھر 1944 میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پاگئے۔ 1947 میں آپ فوج سے مستعفی ہوکر واپس لاہور آگئے اور 1959 میں پاکستان آرٹس کونسل میں سیکریٹری تعینات ہوئے اور 1962 تک وہیں پر کام کیا۔ 1964 میں لندن سے واپسی پر آپ عبداللہ ہارون کالج کراچی میں پرنسپل کی حیثیت سے ملازم ہوگئے۔

بیسویں صدی کی اردو شاعری میں اقبال کے بعد جو نام ابھر کر سامنے آئے ان میں نمایاں ترین نام فیض احمد فیض کا ہے۔ اردو ادب کے بہت سے ناقدین کے نزدیک میر تقی میر، مرزا غالب اور علامہ اقبال کے بعد فیض احمد فیض اردو کے سب سے عظیم شاعر ہیں۔ اقبال کی طرح فیض اپنے جداگانہ اسلوب کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کی شاعری کا پہلا تاثر رومانوی ہے جس میں گل، صبا، بہار، خوشبو کا استعمال کثرت سے نظر آتا ہے۔ فیض جدت پسند شاعر تھے۔ انہیں زبان و بیان پر خوب قدرت تھی اور یہی تاثر ان کے نظریات کی بخوبی نمائندگی کرتا ہے۔

دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں

تیری آواز کے سائے، ترے ہونٹوں کے سراب!

۔ مغرب میں ’’نیرودا آف اردو پوئٹری‘‘ کہلائے جانے والے فیض احمد فیض نے سماجی مسائل کو مختلف احساسات سے جوڑتے ہوئے یادگار رومانوی گیتوں کا حصہ بنادیا۔ لبرل اور سیکولر اقدار پر یقین رکھنے والے فیض احمد فیض اپنی ترقی پسندانہ سوچ اور شاعری سے پاکستان کی اب تک تین نسلوں کو متاثر کرچکے ہیں۔ سیاسی جدوجہد کی متعدد تحریکوں کا حصہ ہونے پر کئی بار جیل بھی گئے۔

اردو ادب میں فیض کی شاعری کو اردو کی تعمیر و ترقی اور پاکستانی معاشرے کی تعریف و تہذیب کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ آپ کے کلام کو کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ 1965 میں لینن امن ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ان کے مجموعہ کلام میں نقشِ فریادی، دستِ حنا، میرے دل میرے مسافر، صحرائے راوی سینا شامل ہیں، بعد ازاں تمام کلام کو ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ میں یکجا کردیا گیا۔

فیض احمد فیض 73 سال کی عمر میں 20 نومبر 1984 کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی تدفین لاہور میں ہی ہوئی۔

دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جارہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے

۔۔۔۔۔۔

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

۔۔۔۔۔۔

گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

۔۔۔۔۔۔

اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

 

احمد ندیم قاسمی

 

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاﺅں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاﺅں گا

آج 20  نومبر معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی کا یوم پیدائش ہے۔

احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916 کو مغربی پنجاب کی وادی سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ اصل نام احمد شاہ تھا اور اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ندیم ان کا تخلص تھا۔ احمد ندیم قاسمی کی شخصیت ہشت پہل تھی۔  وہ ایک جانب جہاں ادیب ،افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار ، صحافی ،کالم نگار تھے  وہیں دوسری جانب صاحب طرز شاعر بھی تھے اور وہ خود کہتے تھے کہ ان کا پہلا عشق شاعری ہے لیکن انہیں نظم و نثر دونوں پر زبردست عبور  حاصل تھا ۔ان کا تعلق خانقاہ سے تھا ۔ اسی لئے ان کے مزاج میں قلندری اورصوفیت تھی ۔ انہوں نے اٹک میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور صادق ایجرٹن کالج بہاولپور سے بی اے کیا۔ انہوں نے پہلا شعر 1927 میں کہا تھا اور ان کی اولیں نظم 1931 میں ’’سیاست‘‘ لاہور میں شائع ہوئی تھی،  جو انہوں نے مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر کہی تھی ۔

 ایک جانب قاسمی کے ہم عصروں میں جہاں سعادت حسن منٹو ، راجیندر سنگھ بیدی ، کرشن چندر ، عصمت چغتائی اور غلام عباس جیسے افسانہ نگار تھے تو دوسری جانب شاعروں میں ان کے ہم عصر میرا جی ، ن م راشد ، فیض احمد فیض، حفیظ جالندھری ، جوش ملیح آبادی اور علی سردار جعفری جیسے شاعر اور قاسمی صاحب نے ان دیو قامت قلمکاروں کے درمیان بطور افسانہ نگار اور بحیثیت شاعر اپنی شناخت قائم کی ۔ ۔ ان کے متعدد اشعار زبان زد خاص و عام ہیں اور انہیں ضرب المثل کی حیثیت حاصل ہے۔

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن

یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

۔۔۔۔۔

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاﺅں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاﺅں گا

احمد ندیم قاسمی نے غزلیں بھی کہیں اور نظموں پر بھی طبع آزمائی کی ۔ ایک جانب جہاں ان کی غزلیں دامن دل کو کھینچتی ہیں وہیں دوسری جانب ان کی نظمیں بھی قاری کو دیر تک سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔

احمد ندیم قاسمی نے 90 سال کی عمر پائی اور مسلسل قلم کی خدمت کرتے رہے ۔ انہوں نے 50سے بھی زائد کتابیں یاد گار چھوڑیں ۔ ان کے 17 افسانوی مجموعے اور 6شعری مجموعے شائع ہوئے ۔ تنقید و تحقیق کی تین کتابیں چھپیں اور ترتیب و ترجمہ کے تحت بھی ان کی چھ کتابیں منظر عام پر آئیں ۔ بچوں کے لئے بھی انہوں نے کافی کچھ لکھا اور ان کا انتخاب تین کتابوں کی شکل میں شائع ہوا ۔ ان کے افسانو ں کے ترجمے دنیا بھر کی ایک درجن سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو کر شائع ہوئے ۔

احمد ندیم قاسمی کی ادبی خدمات کے سلسلے میں 1963 میں حکومت پاکستان نے ان کے شعری مجموعے ’’دشتِ وفا‘‘ 1976 میں شعری مجموعے ’’محیط‘‘ اور 1979 میں مجموعہ کلام ’’دوام‘‘ کے لئے آدم جی ایوارڈ دیا۔ اس کے علاوہ 1968 میں ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ کا سول اعزاز اور حکومت پاکستان کے ’’ستارہ امتیاز‘‘ جیسے وقیع اعزاز سے نوازا گیا۔

ان کے ادب نے کئی نسلوں پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں اور ان کے ادبی رسالہ ” فنون “ نے کئی نسلوں کی پرورش کی تھی۔

احمد ندیم قاسمی 10 جولائی 2006 کو لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں آسودہ خاک ہوئے۔

بھارتی فلمی دنیا کے مشہور شاعر گلزار نے اپنے ادبی ”بابا “ کے انتقال پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے نظم لکھی جس کا عنوان ’’بابا‘‘ تھا

حواس کا جہان ساتھ لے گیا
وہ سارے بادبان ساتھ لے گیا
بتائیں کیا ، وہ آفتاب تھا کوئی
گیا تو آسمان ساتھ لے گیا
کتاب بند کی اور اٹھ کے چل دیا
تمام داستان ساتھ لے گیا
میں سجدے سے اٹھا تو کوئی بھی نہ تھا
وہ پاﺅں کے نشان ساتھ لے گیا

 

حسینہ معین

 

آج مورخہ 20 نومبر پاکستان کی مشہور ادیب اور ڈرامہ نویس حسینہ معین کا یوم پیدائش ہے۔

حسینہ معین 20 نومبر 1941 کو اترپردیش میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور تقسیم ہند کے بعد آپ کا گھرانہ راولپنڈی میں آباد ہوا مگر جلد ہی لاہور منتقل ہوگئے۔ 50 کی دہائی میں کراچی آئیں اور اپنی خداداد صلاحیت کی بنا پر بطور ادیب لکھنا شروع کیا۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے 1963 میں تاریخ میں ماسٹر کیا۔ ادبی کیریئر کا آغاز 1969 میں کیا جب افتخار عارف (پاکستان ٹیلی ویژن کراچی کے سربراہ ادب) نے عید کے موضوع پر ڈرامہ لکھنے کی دعوت دی۔ ’’عید جوڑا‘‘ کے نام سے آپ کا تحریر کردہ ڈرامہ بے حد مقبول ہوا۔

حسینہ معین کئی مشہور ڈراموں کی خالق ہیں جو آپ کی پہچان ثابت ہوئے۔ حسینہ معین نے نہ صرف ڈرامہ نگاری کی بلکہ کئی فلموں کے مکالمے بھی تحریر کئے جس میں پاکستان کے مشہور اداکار وحید مراد کی فلم ’’یہاں سے وہاں تک‘‘ بھی شامل ہے۔ آپ نے راج کپور کی فرمائش پر بھارتی فلم ’’حنا‘‘ کے مکالمے بھی لکھے جو 1991 کو منظر عام پر آئی۔ حسینہ معین کے مشہور ڈراموں میں پرچھائیاں، دھوپ کنارے، انکل عرفی، تنہائیاں، پل دو پل، دھند، بندش، تیرے آجانے سے، شہ زوری، کرن کہانی، زیر زبر پیش، ان کہی، گڑیا، آہٹ، پڑوسی، کسک، نیا رشتہ، جانے انجانے، آنسو، شاید کہ بہار آجائے، آئینہ، چھوٹی سی کہانی، میری بہن مایا کے علاوہ دیگر مشہور ڈرامے شامل ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter