مولانا سید سلیمان ندوی

 

آج مورخہ 22 نومبر اردو کے نامور سیرت نگار، عالم، مورخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف مولانا سر سلیمان ندوی کا یوم پیدائش اور یوم وفات ہے۔

سید سلیمان ندوی 22 نومبر 1884 کو پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں پیدا ہوئے۔ مولانا ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد حکیم سید ابوالحسن ایک صوفی منش تھے۔ ابتدائی تعلیم خلیفہ انور علی اور اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے حاصل کی اور بعد ازاں کئی علمی مدارج طے کرلئے اور 1940 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند حاصل ہوئی۔

آپ کی علمی و ادبی قابلیت اور عظمت کا اعتراف اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی پر کام کررہے تھے اور اس کی 2 جلدیں ہی مکمل ہوئی تھی کہ علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوگیا۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے باقی چار جلدیں نہایت جانفشانی اور لگن سے مکمل کیں۔

تقسیم ہند کے بعد آپ پاکستان آگئے اور کراچی میں مقیم ہوئے اور تعلیمات اسلامی بورڈ کے صدر منتخب ہوئے اور اپنی تاریخ پیدائش یعنی 22 نومبر 1953 کو 69 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال فرماگئے۔

تصانیف: سیرت النبی، عرب و ہند کے تعلقات، حیات شبلی، رحمت عالم، نقوش سلیمان، حیات امام مالک، دروس الادب، خطبات مدارس، ارض القرآن۔ ہندوؤں کی علمی و تعلیم ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں، اہل السنہ و الجماعہ، یاد رفتگاں، مقالات سلیمان، خیام


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter