آج مورخہ 24 نومبر منفرد لہجے اور خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کا یوم پیدائش اور معروف اردو شاعر ثاقب لکھنوی کا یوم وفات ہے۔ ذیل میں ان دونوں شخصیات کا مختصر تعارف دیا جارہا ہے ۔

 

پروین شاکر

 

مرگئے بھی تو کہاں، لوگ بھُلا ہی دیں گے

لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

 

آج مورخہ 24  نومبرمنفرد لہجے اور اسلوب کی شاعرہ پروین شاکر کا یوم پیدائش ہے۔

محبت کی خوشبو کو شعروں میں سمونے والی شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ۔ ان کے والد سید ثاقب حسین خود بھی شاعر تھے اور شاکر تخلص کیا کرتے تھے، اس نسبت سے پروین شاکر اپنے نام کے ساتھ شاکر لکھتی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کے والد پاکستان ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوئے۔ پروین شاکر نے انگریزی ادب میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ دوران تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ وہ استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔ 1986 میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی بی آر اسلام آباد میں سیکریٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔ 1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991 میں ہاورڈ یونیوسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔ شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی کی سرپرستی حاصل رہی۔ اپنی منفرد شاعری کی کتاب ’’خوشبو‘‘ سے اندرون و بیرون ملک بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ انہیں اس کتاب پر آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بعد ازاں انہیں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی ملا۔

پروین شاکر کی شاعری میں ایک نسل کی نمائندگی ہوتی ہے اور ان کی شاعری کا مرکزی نقطہ عورت رہی ہے۔ان کے شعری مجموعوں میں ’’خوشبو، خود کلامی، صد برگ، انکار، ماہ تمام، مسکراہٹ، چڑیوں کی چہکار، بارش کی کن من اور کف آئینہ شامل ہیں۔

26 دسمبر 1994 کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جاملیں۔

 

ثاقب لکھنوی

 

آج مورخہ 24 نومبر اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کا یوم وفات ہے۔

ثاقب لکھنوی کا اصل نام مرزا ذاکر حسین قزلباش تھا اور وہ 2 جنوری 1869 کو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے، بچپن ہی سے انہیں شعر و شاعری کا شوق تھا جو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ ہر وقت فکر سخن میں غلطاں رہنے لگے۔ اپنے اس شوق کی وجہ سے زندگی کے راستے میں اکثر ٹھوکریں کھائیں اور تکالیف اٹھائیں۔ حصول معاش کے لئے پہلے کچھ تجارت کا سلسلہ شروع کیا مگر اس میں گھر کی ساری جمع پونجی گنوادی۔ پھر 1906 میں سفارت خانہ ایران میں ملازم ہوگئے۔ 1908 میں مہاراجہ محمود آباد سے تعلق ہوگیا اور میر منشی کا عہدہ ملا، تقسیم ہند کے بعد جب ریاست ختم ہوئی تو ثاقب لکھنوی بھی گوشہ نشین ہوگئے اور یاد الٰہی میں دن گزار کر 24 نومبر 1949 کو انتقال کیا۔ شاعری کا ایک دیوان ’’دیوان ثاقب‘‘ یادگار چھوڑا۔

ثاقب لکھنوی کے بعض اشعار اردو شاعری میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلا

 

بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ

ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے

۔۔۔۔۔

نشیمن نہ جلتا نشانہ تو رہتی

ہمارا تھا کیا ٹھیک رہتے نہ رہتے

۔۔۔۔۔۔

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

 

 


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter