خود کریمی

 

’’لوگ دوسرے لوگوں کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟‘‘
ذرا ایک منٹ ٹھہر کر اس مسئلے پر غور کریں۔ وہ کون سے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو آزار نہیں دیتے؟
وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو دکھ نہیں دیتے۔ ان کے اندر دکھ کا اور آزار کا لاوا اتنا شدید نہیں ہوتا کہ وہ ابل کر دوسروں پر گرنے لگے۔
چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ دوسروں کو حفاظت میں رکھنے کے لئے خود کو حفاظت میں رکھنا بہت ضروری ہے ......
اصل میں ’’خود کریمی‘‘ ہی ’’مخلوق کریمی‘‘ ہے، چونکہ اس کا منبع ایک ہی ہے اس لئے یہ سبھی کو ایک سا سیراب کرتی ہے۔
اور خود کریمی کا اجرا اس طرح ہوتا ہے کہ سچ کو اندر آنے دیا جائے اور اپنے زخموں کی مرہم پٹی کرنے دی جائے تاکہ اپنا اندر صحتمند ہوجائے۔
(’’بابا صاحبا‘‘ از اشفاق احمد سے اقتباس)

 

 


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter