آج مورخہ 24 دسمبر پاکستانی فلموں کے لئے لازوال گیت تخلیق کرنے والے نامور شاعر قتیل شفاعی اور فن کی دنیا کے بے تاج بادشاہ، پاکستان ٹیلی ویژن، اسٹیج اور فلم کے مزاحیہ اداکار اور میزبان معین اختر کا یوم پیدائش ہے۔ ذیل میں ان دونوں شخصیات کا مختصر تعارف پیش ہے۔

 

قتیل شفائی

پاکستانی فلموں کے لیے لازوال گیت تخلیق کرنے والے نامور شاعر قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا، وہ 24 دسمبر 1919ء کو صوبہ خیبر پختونخواہ ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے، قتیل شفائی نہایت مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ انہوں نے صرف 13 برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیئے تھے، ان کا پہلا مجموعہ ’’ہریالی‘‘ 1942 میں شائع ہوا۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی اور سیاسی شعور بھی موجود ہے اور انہیں ایک صف اول کے ترقی پسند شعراء میں اہم مقام حاصل ہیں۔ ادبی شاعری کے حوالے سے قتیل کا شمار ترقی پسند شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا ایک شعر ’’دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا‘‘ کہیں ضرب المثل کے طور پر استعمال ہوا تو کہیں نعرہ بنا۔ انہوں نے بہترین ادبی شاعری کے ساتھ ساتھ نغمہ نگاری کو بھی ایک نئی جہت دی۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ اگرچہ فلموں کے لیے گیت نگاری قتیل شفائی کی نمایاں وجہِ شہرت بنی لیکن خود انہیں ہمیشہ اس بات پر اصرار رہا کہ شعر و ادب ہی اُن کا خاص میدان ہیں اور فلمی گیت نگاری محض ایک ذریعہ روزگار ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ فلموں میں معیاری شاعری متعارف کروانے کا چیلنج لے کر اس میدان میں آئے۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے، انہیں نیشنل فلم ایوارڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایوارڈ بھی دیئے گئے۔ انہیں 94ء میں تمغہ حسن کارکردگی دیا گیا اس کے علاوہ آدم جی ایوارڈ، امیر خسرو ایوارڈ، نقوش ایوارڈ نیز انڈیا کی مگھید یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لئے ان پر مقالہ تحریر کیا۔ شہنشاہ غزل مہدی حسن اور بھارت کے غزل گائیک جگجیت سنگھ نے جن شعراء کا کلام زیادہ گایا ان میں قتیل شفائی بھی شامل ہیں۔ ان کے مشہور نغمات اور غزلوں میں ’’زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں، اے دل کسی کی یاد میں، یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہزادیاں، یہ محفل جو آج سجی ہے، کیوں ہم سے خفا ہوگئے اے جان تمنا، صدا ہوں اپنے پیار کی‘‘ جیسے لازوال نغمات شامل ہیں۔

قتیل شفائی نے گیت نگاری کا آغاز پاکستانی فلموں سے کیا تاہم عمر کے آخری برسوں میں کئی بھارتی فلموں کے لیے بھی گیت لکھے، جو بہت مقبول ہوئے، جیسے ’تیرے در پر صنم چلے آئے‘ یا پھر ’سنبھالا ہے مَیں نے بہت اپنے دل کو‘ اور ’وہ تیرا نام تھا۔

تصانیف : ہریالی، آموختہ، گجر، ابابیل، جلترنگ، برگد، روزن، گھنگرو، جھومر، سمندر میں سیڑھی، مطربہ، پھوار، چھتنار، صنم، گفتگو، پرچم، پیراہن، انتخاب (منتخب مجموعہ)، کلیات ’’رنگ خوشبو روشنی‘‘ (تین جلدیں)

ان کا انتقال 11 جولائی 2001ء کو 82 برس کی عمر میں ہوا تھا۔

 

معین اختر

آج مورخہ 24 دسمبر فن کی دنیا کے بے تاج بادشاہ، پاکستان ٹیلی ویزن، اسٹیج اور فلم کے مزاحیہ اداکار اور میزبان معین اختر کا یوم پیدائش ہے۔ وہ اداکار اور میزبان کے علاوہ بطور فلم ہدایت کار، پروڈیوسر، گلوکار اور مصنف بھی کام کرتے تھے۔ فن کی دنیا میں مزاح سے لے کر پیروڈی تک، اسٹیج سے ٹیلی ویژن تک معین اختر وہ نام ہے جس کے بغیر پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ نامکمل ہے۔
معین اختر 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے کام کا آغاز پاکستان ٹیلی ویژن پر 6 ستمبر 1966 کو پاکستان کے پہلے یوم دفاع کی تقاریب کے لئے کئے گئے پروگرام سے کیا جس کے بعد انہوں نے کئی ٹی وی ڈراموں، اسٹیج پروگرامز میں کام کرنے کے بعد انور مقصود اور بشریٰ انصاری کے ساتھ ٹیم بنا کر کئی معیاری پروگرام پیش کئے۔
انہوں نے کئی زبانوں میں مزاحیہ اداکاری کی ہے جن میں انگریزی، سندھی، پنجابی، میمن، پشتو، گجراتی اور بنگالی کے علاوہ کئی دیگر زبانیں شامل ہیں۔ انہیں ان کے کام کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
مشہور ڈرامے  روزی، بندر روڈ سے کیماڑی، ہریالے بنے، مرزا اور حمیدہ، سچ مچ پارٹ ۲، آخری گھنٹی، سچ مچ، سچ مچ کا الیکشن، ہیلو ہیلو، آنگن ٹیڑھا، کچھ کچھ سچ مچ، انتظار فرمایئے، بے بی، رانگ نمبر، مکان نمبر 47، رفتہ رفتہ، سچ مچ کی عید، ہاف پلیٹ، گم، چار سو بیس، فیملی ۹۳، ڈالر مین، نوکر کے آگے، عید ٹرین، لاؤ تو میرا اعمال نامہ، چاکر،ففٹی ففٹی، شو ٹائم، یس سر نو سر، ایکسیوز می، لوز ٹاک کے علاوہ دیگر بے شمار ڈرامے اور اسٹیج شو شامل ہیں۔
44 سال تک اپنی بے مثل اداکاری کے بل بوتے پر لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والے لیجنڈ اداکار معین اختر 22 اپریل 2011 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

 


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter