English NameGorilla

Group of AnimalMammal

Pluralگوریلے ∕ گوریلوں

Maleجی ہاں

Femaleبن مانسن / گوریلن

Baby Animal's Name باندر بال / گورگلا ∕ موگلا

Soundخوخیاہٹ ∕ دھموکا ∕ چِیخ

No Urdu Nameبن مانس ۔ سفاح (عربی) ۔ غوریلا(عربی ترکیب،مستعمل) ۔ چمپینزی ۔ Grand Brute (فرانسیسی ، اُردو میں اس کے لیے مولانا محمود شیرانی نے " جدِامجد" اور بابائے اُردو مولوی عبدالحق نے "افریقی آدم" کی اصطلاحات استعمال کی ہیں ،دیکھیے "لُغت کبیر " اور " پنجاب میں اُردو

Image

Group of Animal 1ممالیہ

گوریلا قوی اور جسیم بندر ہے جس کا طرزِ زندگی چمپینزی سے ملتا جلتا ہے، نیز انسان سے مماثلت رکھنے والے جانوروں میں سے ہے۔ یہ نباتات خور ہے، پتّے، پھل اور نرم ٹہنیاں کھاتا ہے۔ اس میں بن مانس اور بندر کے چہروں کی طرح انسانی بَشِرہ کی حیرت انگیز مشابہت پائی جاتی ہے۔ گوریلے بندر کی طرح درختوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ مگر عام طور پر یہ زمین پر ہی رہتے ہیں۔ان کا وزن 400 پونڈز (182 کلوگرام) سے زائد ہوتا ہے۔ وزنی ہونے کے باعث یہ لنگور اور بندر کی طرح درختوں کی شاخوں سے نہیں لٹک سکتے۔ غیر معمولی طور پر ان کا چار پیروں پر چلنے کا انداز "knuckle-walking" کہلاتا ہے۔ یہ اپنے بھاری بھرکم جسم کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے قابو میں رکھتے ہیں۔ گوریلے کے ہاتھ اس کی ٹانگوں سے بھی لمبے ہوتے ہیں۔ اس کا جسم بھاری اور سینہ چوڑا چکلا ہوتا ہے۔ گوریلوں کی خطرناک اقسام وسط افریقہ کے جنگلات میں پائی جاتی ہیں۔ گوریلا کو اُردو ادب کی کئی کتابوں میں "افریقی آدمی" یا " آدمِ افریقہ " لکھا گیا ہے۔تاہم انگریزی ادب میں بچوں کے لیے جو یونانی ادب ترجمہ ہوا ہے ،اُس میں ایک کردار "موگلی" کا بھی ہے ، ہو سکتا ہے کہ اسی لیے گوریلے کو " موگلا " یا اس کے بچّہ کو " موگلو " ، "موگلا" یا مادہ کو " موگلی" کہا گیا(دیکھیے : ابنِ انشاء کی کہانیاں از نیشنل بُک کونسل ،اسلام آباد ،اُس وقت نیشنل بُک کونسل ہوا کرتی تھی ،آج کل نیشنل بُک فائونڈیشن(وزارتِ تعلیم، حکومتِ پاکستان ) ہے۔

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter