• بَس گئیں یُوں مری آنکھوں میں کسی کی آنکھیں
    ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہر جھیل میں اپنی آنکھیں
    رُوحی ‌کنجاہی
  • آنکھیں ملے اٹھا ہے اگر سو کے آفتاب
    لازم ہے آئے سامنے منہ دھو کے آفتاب
    انیس
  • زیب دیتی ہیں حو ارباب نظر کو آنکھیں
    دیدہ دیزی سے وہ ملتی ہیں بشر کو آنکھیں
    برجیس
  • بیٹھے سے بیگار بھل آج اس کے گھر چل دیکھوں میں
    اور نہ ہو کچھ حاصل رخ پر آنکھیں تو پڑجائیں گی
    شوق قدوائی
  • گرم کیا خاک ہوں آنکھیں شب تنہائی میں
    سوزش دل سے کسی وقت نہیں دل ٹھنڈا
    بشیر
  • کھول دے آنکھیں دم ذبیح دم ذبح نہ دیکھوں گا تجھے
    پر چھری اپنی تو گردن پہ میں دیکھوں چلتی
    ذوق
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter