• آنکھیں جھکا کے بولے یہ مولاے مشرقین
    میں ہوں حسین احمد مرسل کا نورعین
    (ق)
  • وہ چہرہ کہ برق طور آنکھیں جھپکائے
    وہ ماتھا چندر لوک جس سے شرمائے
    فراق
  • منکر پاک ہے وہ شیشے کی خوں ریزی سے
    مرد ماں دیکھو تو پھر آنکھیں ہیں کیوں لال اس کی
    جوشش
  • شہرہ دیکھا تو کھل گئیں آنکھیں
    ماہرویوں پہ ڈھل گئیں آنکھیں
    داغ
  • پھر آنکھیں کھول کر دل بر کے منھ پر ٹک نظر کرکے
    زمین و آسماں چودہ طبق کے کھل گئے پردے
    نظیر
  • بے ترے جب مائل گلزار آنکھیں ہوگئیں
    کچھ نہ سوجھا باغ میں دیوار آنکھیں ہوگئیں
    اثر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter