• آنکھیں وہ کال یکالی موتی کٹی رسیلی
    کلیاں ہیں کھلنے والی جو بن پہ اس چمن کی
    عظمت اللہ خان
  • آنکھیں لڑیں گی جام سے اس بادہ خوار کی
    شیشہ گلا کٹائے گا گردن پہ بار کی
    الماس درخشاں
  • آنکھیں جلتی ہیں تپ فرقت سے
    آمری آنکھ کی ٹھنڈک آجا
    مسرور
  • پھیلی ہے اس کی نام خدا خوب روشنی
    اہل فرانس کی ہیں اب آنکھیں کھلی ہیوئی
    ز۔ خ ۔ ش
  • آنکھیں لڑائی ان سے کہاری نے بانس کھائے
    اس کا بھی میرے چونڈے یہ ڈولا اوچھل گیا
    جان صاحب
  • تُو پکارے تو چمک اُٹھتی ہیں آنکھیں میری
    تیری صورت بھی ہے شامل تری آواز کے ساتھ
    احمد ‌ندیم ‌قاسمی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter