Shair

شعر

ضعف سے کچھ نظر نہیں آتا
کررہی ہیں ڈگر ڈگر آنکھیں

(مہتاب داغ)

آنکھیں لڑائی ان سے کہاری نے بانس کھائے
اس کا بھی میرے چونڈے یہ ڈولا اوچھل گیا

(جان صاحب)

شوخیاں آہوں کی ذہن میں کب آتی ہیں
کچھ دنوں ہم نے بھی دیکھی ہیں تمہاری آنکھیں

(تعشق لکھنوی)

کیا ڈیٹھ (ڈھیٹ)یہ آنکھیں ہی کہ لڑتی ہیں انہیں سے
پردوں میں چھپائے ہوئے سب حسن انہیں کا

(شوق قدوائی)

ملوں گی تلووں تلے آنکھیں تیری اے نرگس
خصم کو میرے اگر دیکھا بد نظر تونے

(جان صاحب)

آنکھیں بچھاتی جاتی تھیں پریاں قدم قدم
جاری زباں پہ تھا کہ سلامت یہ دم قدم

(انیس)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share