• جھپکی ہیں آنکھیں اور جھکی آتی ہیں بہت
    نزدیک شاہد آیا ہے ہنگام خواب اب
    میر
  • آنکھیں ہیں آباد! خواب اُجڑتے جائیں
    ایسی آندھی میں! خاک سنورتے جائیں!!
    امجداسلام امجد
  • آسماں سے تھیں آنکھیں بصد رنج وملال
    ناگہاں دیکھا جو زینب نے محرم کا ہلال
    فہیم(باقر علی خاں)
  • دم نظارہ رخ رنگین
    برق عارض نے آنکھیں جھپکادیں
    قلق
  • آنکھیں جو چیر چیر کے دیکھا ادِھر اَدھر
    تادور کوئی دوست نہ ساتھی پڑا نظر
    یاور اعظمی
  • روتے روتے سجائی آنکھیں
    کوئی جانے کہ آئی ہیں آنکھیں
    قلق
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter