• منکر پاک ہے وہ شیشے کی خوں ریزی سے
    مرد ماں دیکھو تو پھر آنکھیں ہیں کیوں لال اس کی
    جوشش
  • رشک مہ بن ہے یہ اندھیر کہ مجھ پر تارے
    دمبدم آنکھیں نکالے ہیں شب تار سے مل
    نصیر
  • نین سیں دل کا رتبہ ہے بڑا تجھ رو پرستی میں
    کہ دل حافظ ہے اس مصحف کا آنکھیں ناظرہ خواہ ہیں
    بیکل (عبدالواب)
  • بُجھتے تاروں کی جھلمل میں اوس لرزتی ہے
    امجد دنیا جاگ رہی ہے تو بھی آنکھیں مَل
    امجداسلام امجد
  • میں ہونگابام پر دیکھیں گے سب کیونکر نہ یہ کہیے
    سنا ہے میں نے آنکھیں سر پہ ہونگی اہل محشر کی
    رشید(پیارے صاحب)
  • گریوں ہی ہے تو واں نہ بولینگے
    اپنی آنکھیں کوئی سیے کیسے
    نظام
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter