• آنکھیں لڑائی ان سے کہاری نے بانس کھائے
    اس کا بھی میرے چونڈے یہ ڈولا اوچھل گیا
    جان صاحب
  • آسماں سے تھیں آنکھیں بصد رنج وملال
    ناگہاں دیکھا جو زینب نے محرم کا ہلال
    فہیم(باقر علی خاں)
  • نہیں ثانی ہوا عالم میں اب اے خوش نظر تیرا
    اگر چہ ہم نے دیکھی ہیں جہاں میں بے شمار آنکھیں
    مرزا علی
  • بہہ گئیں آنکھیں مگر جاتی نہیں رونے کی خو
    خونفشاں جو زخم تھا وہ دیدہ تر بن گیا
    عاشق (والاجاء)
  • جب شباب آکر زلیخا کے دوبارہ دن پھرے
    کھل گئیں آنکھیں سی یوسف کی یہ عالم دیکھ کر
    داغ
  • تری جو آنکھیں ہیں تلوار کے تلے بھی ادھر
    فریب خوردہ ہے تو میر کن نگاہوں کا
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter