• سُرخ کیسو آنسو ہیں ہوتے زور کبھو ہے مُنہ تیرا
    کیا کیا رنگ محبت کے ہیں یہ بھی ایک زمانا ہے
    میر تقی میر
  • میں جس کی آنکھ کا آنسو تھا اس نے قدر نہ کی
    بکھر گیا ہوں تو اب ریت سے اٹھا ئے مجھے
    بشیر بدر
  • جو آنسو دل میں گرتے ہیں وہ آنکھوں میں نہیں رہتے
    بہت سے حرف ایسے ہیں جو لفظوں میں نہیں رہتے
    امجد اسلام امجد
  • مژہ پر چڑھ آنسو کیا نٹھ کا سانگ
    بدوں گا نہ میں اس کی یہ بھی کلا
    اظفری
  • آجمنا پر غل شور ہوا اور ٹھٹھ بندھے او بھیڑ لگی
    کوئی آنسو ڈالے ہاتھ ملے پر بھید نہ جانے کوئی بھی
    نظیر
  • ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں
    بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی
    ذوق
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter