Shair

شعر

آپ کی بات تو کچھ اور ہے ورنہ اے دوست
کس کو لگتے ہیں کسی آنکھ میں پیارے آنسو

(حکیم ‌ناصر ‌الدین)

دھوتے ہیں ہر ایک شے کو پانی سے مگر
آنسو ہیں فقط گناہ دھونے کے لیے

(دبیر)

منھ پھیر کے روتے تھے سبھی ظالم بدخو
لیکن بن کاہل کی نہ تھا آنکھ میں آنسو

(برجیس)

اک بے وفا کے سامنے، آنسو بہاتے ہم
اتنا ہماری آنکھ کا پانی مرا نہ تھا

(بشیر بدر)

حضورِ دوست بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں
کچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیں

(محمد ‌دین ‌تاثیر)

نالے آٹھ آٹھ آنسو روتے ہیں
شرم سے ڈیرے آب ہوتے ہیں

(سودا)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Poetry

Pinterest Share