• جو عاشق پر تحمل کا جگر ہوجائے خوں سارا
    تو ناداں کی طرح بازار میں آنسو بہاوے کب
    دیوان حافظ ہندی
  • آنسو تو دامن سے پوچھوں ہچکی کیوں کر روکوں میں
    لاکھ چھپاؤں عشق کو لیکن پانی پھر بھی مرتا ہے
    شوق قدوائی
  • خوں کے قطرے جو مصلے پہ پر اک سوٹپکے
    یہ ستم دیکھ کے شبنم کے بھی آنسو ٹپکے
    شمیم
  • تھے آنکھ کا حجاب وہ آنسو جو سربسر
    شیریں شناخت کرنہ سکی شاہ دیں کا سر
    ناصر حسین
  • آنکھ کم بخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا
    ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہوکر
    حفیظ جالندھری
  • زمیں میں سمایا تحیر سے آب
    گئے سوکھ آنسو کنویں کے شتاب
    میرحسن
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter