• لاتے نہیں نظر میں غلطانی گہر کو
    ہم معتقد ہیں اپنے آنسو ہی کی ڈھلک کے
    میر
  • تھے آنکھ کا حجاب وہ آنسو جو سربسر
    شیریں شناخت کرنہ سکی شاہ دیں کا سر
    ناصر حسین
  • تھی جتنی رطوبت غریزی اے شوق
    آنکھوں سے نکل گئی وہ آنسو ہو کر
    شوق قدوائی
  • آنسو چھڑک کے ہوش میں لاتی اسے مگر
    آنسو نہیں اب آنکھ میں روتی ہوں اس قدر
    اکبر آبادی
  • چوٹ لگے اور آنسو آئیں‘ جزو فطرت‘ عین فطرت
    لیکن جس محفل میں میں ہوں‘ اس کا یہ دستور نہیں
    ڈاکٹر ‌یاور ‌عباس
  • جو عاشق پر تحمل کا جگر ہوجائے خوں سارا
    تو ناداں کی طرح بازار میں آنسو بہاوے کب
    دیوان حافظ ہندی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter