• دیکھی جو نہ تھیں حیدر کرار کی آنکھیں
    مست مئے نخوت تھیں جفا کار کی آنکھیں
    انیس
  • کرتی ہیں ہر شام یہ بِنتی‘ آنکھیں ریت بھری
    روشن ہو اے امن کے تارے ، ظلم کے سورج، ڈھل
    امجداسلام امجد
  • ماں کی آنکھیں چراغ تھیں جس میں
    میرے ہمراہ وہ دعا بھی تھی
    امجد اسلام امجد
  • بس اے گریہ آنکھیں ترے کیا نہیں ہیں
    کہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا
    میر تقی میر
  • خدا کے واسطے جب قتل کر ظالم سنبھال آنکھیں
    کریں ہیں چھاولی سی ہرطرف تیری جھنال آنکھیں
    عشق
  • جب ہم نشیں نے اس کی باتیں سنائیاں ہیں
    بے اختیار اس دم آنکھیں بھرآئیاں ہیں
    جسونت سنگھ
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter