• نرگس کو تب سے ہرگز دیکھا نہیں ہوں پیارے
    گلشن میں جب سے تونے آنکھیں بتائیاں ہیں
    عشق
  • ظرفِ دل دیکھنا تو آنکھیں کرب سے پتھرا گئی
    خون رونے کی تمنا کا یہ خمیازہ نہ تھا
    احمد ‌فراز
  • موند آنکھیں سفر عدم کا کر
    بس ہے دیکھا نہ عالمِ ایجاد
    میر تقی میر
  • آنکھیں نزول کیں مرے یار کے انتظار نے
    دل جو بنا تو ہوگیا چھن کے مکان آرزو
    شرف (آغا حجو)
  • ایسا نہ ہو کہ پیارے دم میں کسی کے آجا
    جو بد نگہ سے دیکھے آنکھیں نکال کھاجا
    فدوی لاہوری
  • گل ہی کی اور ہم بھی آنکھیں لگا رکھیں گے
    ایک آدھ دن جو موسم اب کی وفا کرے ہے
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter