Shair

شعر

دل صفا ہوگیا سینے میں تو پائے یہ شَرَف
جب کہ آنکھیں ہوئی حق ہیں تو مِلا دُرِ نجف

(انیس)

اشارت سے چہک جانے میں تئیں کرتی کمی ہرگز
غضب کرتیں اگر رکھتیں زبان بول چال آنکھیں

(مرزا علی)

چمن کی بزم میں جاتی ہے اب جدھر آنکھیں
اسی کے حسن کو لاتی ہیں ڈھنڈھ کر آنکھیں

(شمیم)

نرگس ہیں آنکھیں اور گل زنیق وہ ناک ہے
رخسار دونوں گل ہیں گل یاسمین جبیں

(جبیں)

سو جگہ اُس کی آنکھیں پڑتی ہیں
جیسے مستِ شراب ہیں دونوں

(میر تقی میر)

آنکھیں جھپک رہی تھیں کلس کی جو تاب سے
حیرت ٹیک رہی تھی رخ آفتاب سے

(شاد عظیم آبادی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share