• میری اس کی جو لڑ گئیں آنکھیں
    ہوگئے آنکھوں ہی میں دو دو بچن
    درد
  • ہائے وہ شرم وہ حیا وہ حجاب
    میں نے چھیڑا لجا گئیں آنکھیں
    اعجاز نوح
  • لب ہے خط مفروش تو بینی ہے عمود
    آنکھیں گوشوں میں زاویے ہیں گویا
    شوق قد وائی
  • حدیث و آیت و تاریخ سے ملا آنکھیں
    بتوں کے آگے جھکے یہ کبھی ، جھکا آنکھیں
    حیدر حسین
  • ترے پاؤں تلے حوریں نہیں آنکھیں بچھاتی ہیں
    یقیں ہے چشم حور العین نشان نقش پا ٹھہرے
    آغا اکبر آبادی
  • چوندھیا جاتا ہے تیرے سامنے پیر فلک
    دیکھتا ہے عارض انور کو آنکھیں چیر کر
    برق
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter