• وہ کالی آنکھیں ، شہر میں مشہور تھیں بہت
    تب ان پہ موٹے شیشوں کا چشمہ چڑھا نہ تھا
    بشیر بدر
  • مری اب آنکھیں نہیں کُھلتیں ضعف سے ہمدم
    نہ کہ کو نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
    میر تقی میر
  • آنکھیں اس واسطے خالق نے عنابت کی ہیں
    آدمی دیکھے کہ انسان کی حقیقت کیا ہے
    امان علی
  • آنکھیں ملے اٹھا ہے اگر سو کے آفتاب
    لازم ہے آئے سامنے منہ دھو کے آفتاب
    انیس
  • شب آنکھیں کھلی رہتی ہیں ہم منتظروں کی
    جوں دیدۂ انجم نہیں ہیں خواب سے واقف
    میر تقی میر
  • زلف کالی ہے ذقن دُرگا کُند
    رخ جو سورج ہے تو ہندو آنکھیں
    الماسِ درخشاں
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter