• ایسی اندھی ہوئیں آنکھیں کہ نہ سوجھا موقع
    وہ جو آیا تو اسی وقت انہیں بھر آنا تھا
    شوق قدوائی
  • آنکھیں کس پرہیز سے کرتی ہیں دید
    جب تلک باہم چھپا ہوتا ہے عشق
    انتخاب رام پور
  • بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں
    کوئی آنسو گرا تھا ، یاد ہوگا
    بشیر بدر
  • عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
    یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
    میر
  • نے مروت نے کبھی آنکھیں برابر تک نہ کیں
    نالہ کس حسرت سے منہ تکتا رہا تاثیر کا
    شاد
  • آنکھیں لڑا لڑا کر کب تک لگا رکھیں گے
    اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter