• نے مروت نے کبھی آنکھیں برابر تک نہ کیں
    نالہ کس حسرت سے منہ تکتا رہا تاثیر کا
    شاد
  • ایسی اندھی ہوئیں آنکھیں کہ نہ سوجھا موقع
    وہ جو آیا تو اسی وقت انہیں بھر آنا تھا
    شوق قدوائی
  • جن مردماں کو آنکھیں دیا ہے خدانے وے
    سرمہ کریں ہیں رہ کی تری خاک دھول کا
    میر
  • چہرہ پہچان تو ہوتا ہے یقیناً لیکن
    شخصیت ہوتی ہیں دراصل‘ کسی کی آنکھیں
    روحی ‌کنجاہی
  • کیااس کی ڈریں ابروئے خمدار سے آنکھیں
    مردوں کی جھپکتی نہیں تلوار سے آنکھیں
    معروف
  • نیل پیل کرتے ہیں آنکھیں جو مجھکو دیکھ کر
    ایک رنگ آتا ہے اک جاتا ہے مجھ رنجور کا
    داغ
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter