• ہجر کی شب وہ نیلی آنکھیں اور بھی نیلی تھیں
    جیسے اُس نے اپنے سر سے بوجھ اتارا تھا
    امجد اسلام امجد
  • گھر میں گئی بیمار جو کنبے سے بچھڑ کر
    تیورانے لگیں آنکھیں گری سر کو پکڑ کر
    فیض بھرت پوری
  • خواب نگر ہے آنکھیں کھولے دیکھ رہا ہُوں
    اُس کو اپنی جانب آتے دیکھ رہا ہُوں
    امجد اسلام امجد
  • جھپکی ہیں آنکھیں اور جھکی آتی ہیں بہت
    نزدیک شاہد آیا ہے ہنگام خواب اب
    میر
  • لگ رہی ہیں ترے عاشق کی جو آنکھیں چھت سے
    تجکو دیکھا ہے مگر ان نے لب بام کہیں
    تاباں
  • ہوا کا لمس ہے پاؤں میں بیڑیوں کی طرح
    شفق کی آنچ سے آنکھیں پگھل نہ جائیں کہیں!
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter