• بہہ گئیں آنکھیں مگر جاتی نہیں رونے کی خو
    خونفشاں جو زخم تھا وہ دیدہ تر بن گیا
    عاشق (والاجاء)
  • عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
    یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
    میر
  • تھا ایک کحال پیر دیریں
    عیسٰی کی تھیں اس نے آنکھیں دیکھیں
    گلزار نسیم
  • نشاں یہ کیسے ہیں شانوں پہ جبکہ یہ پوچھا
    زمیں سے لگ گئیں آنکھیں زباں سے کچھ نہ کہا
    شمیم
  • آنکھوں سے آنکھیں ناصح ہرگز بندھی نہ چھوٹیں
    زنجیر کی کڑی پر جیسے کڑی لگائی
    سودا
  • ترک خونریز ہیں آنکھیں تو نگہ ہے سفاک
    ایک کیا آپ کو دیکھا کئی رہزن دیکھے
    الف لیلہ
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter