• افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میں
    لگتے ہی اُس کے ہاتھ کی تلوار مرگئے
    میر تقی میر
  • رہی یہ چشم نت تم سے ولے افسوس اے آنکھوں
    کبھی تم نے نہ دھویا دل سے میرے داغ ہجراں کو
    حسن
  • میں بڑا چکما کھا گئی افسوس
    جو ترے جل میں آگئی افسوس
    شوق
  • کردیے افسوس وہ روزن ہی جاسوسوں نے بند
    جن میں کچھ تھوڑی سی تھی آنکھیں لڑانے کی جگہ
    انتخاب رامپور
  • افسوس ایک دن بھی دیکھا نہ تم نے آکے
    ہم کو تپ دروں نے مارا گھلا گھلا کے
    شعاع مہر
  • پیم نگری کی راہ غیر ولی
    کوئی پاتا نہیں ہزار افسوس
    ولی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 12

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter