• کام آئی محمد کے نواسے کی گزارش
    اللہ نے کی اس پہ درُ لعل کی بارش
    حیدر حسین
  • روتے روتے یوں دیدہ خود کام سفید
    جوشِ بارش سے ہوں جُون ابرِ سیہ فام سفید
    محب
  • اک ایسے ہجر کی آتش ہے میرے دل میں جسے
    کسی وصال کی بارش بجھا نہیں سکی
    امجد اسلام امجد
  • آگ کیا ہم کو لگائی ابر نے تیرے بغیر
    وقت بارش اخگر خورشید تف پر ڈالہ تھا
    مومن
  • جیسے بارش سے دھلے صحنِ گلستاں امجد
    آنکھ جب خشک ہوئی اور بھی چہرا چمکا
    امجد اسلام امجد
  • آنکھ اور منظر کی وسعت میں چاروں جانب بارش ہے
    اور بارش مین‘ دُور کہیں اِک گھر ہے جس کی
    ایک ایک اینٹ پہ تیرے میرے خواب لکھے ہیں
    اور اُس گھر کو جانے والی کچھ گلیاں ہیں
    جن میں ہم دونوں کے سائے تنہا تنہا بھیگ رہے ہیں
    دروازے پر قفل پڑا ہے اور دریچے سُونے ہیں
    دیواروں پر جمی ہُوئی کائی میں چھُپ کر
    موسم ہم کو دیکھ رہے ہیں
    کتنے بادل‘ ہم دونوں کی آنکھ سے اوجھل
    برس برس کر گُزر چُکے ہیں‘

    ایک کمی سی‘
    ایک نمی سی‘
    چاروں جانب پھیل رہی ہے‘
    کئی زمانے ایک ہی پَل میں
    باہم مل کر بھیگ رہے ہیں
    اندر یادیں سُوکھ رہی ہیں
    باہر منظر بھیگ رہے ہیں
    امجد ‌اسلام ‌امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter