• جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
    تم بھی اُس کو چھوکے گزرنا، میں بھی اُس سے لپٹوں گا
    امجد اسلام امجد
  • گریہ پہ میرے کیوں نہ وہ خندہ ہو دم بدم
    بارش میں لطف رکھتی ہے برق جہاں کی سیر
    معروف
  • بارش لحد پہ اشکوں کی تھی دل فگار تھا
    گویا نزول رحمت پروردگار تھا
    عروج
  • چاروں طرف کمان کیانی کی وہ ترنگ
    رہ رہ کے ابر شام سے تھی بارش خدنگ
    انیس
  • روتے روتے یوں دیدہ خود کام سفید
    جوشِ بارش سے ہوں جُون ابرِ سیہ فام سفید
    محب
  • وہ تیروں کی بارش وہ یداللہ کا جانی
    پچوبیس پہر گزرے کہ پایا نہیں پانی
    نجم (مصور حسین)
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter