Shair

شعر

پھلوں کی باغ بانی میں تو بارش کی دعا ہوگی
گزرتے خوب صورت بادلوں کو کون دیکھے گا

(بشیر بدر)

جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اُس کو چھوکے گزرنا، میں بھی اُس سے لپٹوں گا

(امجد اسلام امجد)

روتے روتے یوں دیدہ خود کام سفید
جوشِ بارش سے ہوں جُون ابرِ سیہ فام سفید

(محب)

جتنا خورشید تپے اتنی ہی بارش ہو سوا
ہووے کیونکر تپش عشق نہ رحمت کی دلیل

(ذوق)

پشت خم یوں کردیا ہے سیل گریہ نے یہ خم
جس طرح آسیب سے بارش کے ہو دیوار کج

(جسونت سنگھ پروانہ)

ہمیشہ اشک کی بارش ہے نخل مژگاں سے
شب فراق یہ مہوا بلا ٹپکتا ہے

(انتخاب رامپور)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Poetry

Pinterest Share