• کے بیوفا کوں کیا آشنا کیا ہے
    تو آبرو نیں کس گھاٹ لا اتارا
    دیر
  • میں آزما چکا ہوں نہ کھانا کوئی فریب
    اس بیوفا کا قول و قسم دم سے کم نہیں
    شہیدی(کرامت علی)
  • ظالم وہ بیوفا ہے عدو جس کے رشک سے
    اتنا کچھ آگیا خلل اپنے نباہ میں
    مومن
  • آئے ہیں میر منہ کو بنائے جفا سے آج
    شاید بگڑ گئی ہے کچھ اُس بیوفا سے آج
    میر تقی میر
  • تو نازین رسیلا
    تو بیوفا رنگیلا
    فائز
  • رکھے ہیں میر ترے منہ سے بیوفا خاطر
    تری جفا کے تغافل کی بدگمانی کی
    میر تقی میر
First Previous
1 2
Next Last
Page 1 of 2

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter