Shair

شعر

وہ اس کا حسن سادہ وجہ گداز خاطر
شفاف جسم نازک پالودہ سیم کا سا

(دیوان زکی)

تم دید کو کہتے ہو‘ آئینہ ذرا دیکھو!
خود حسن نکھر آیا اس کیف تماشہ سے

(اصغر)

گلہائے جراحت کو عجب حسن سے بانٹا
نکلی نہ کوئی شاخ نہ الجھا کوئی کانٹا

(انیس)

کھب گیا حسن یار آنکھوں میں
کیا ہی پھولی بہار آنکھوں میں

(سوز)

ترا مکھ حسن کا دریا و موجاں چین پیشانی
اُپر ابرو کی کشتی کے یوتل جیوں ناخدا دستا

(ولی)

دیکھنے آئے تھے ہم حسن رخ نیکوے دوست
آپ سے جاتے رہے آکر میان کوے دوست

(اکبر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 81

Poetry

Pinterest Share