• شراب حسن نزاکت جو پاس ہے اس کے
    اُسی شراب کی حوروں نے پائی ہے تلچھٹ
    انشا
  • حق ہے سنا نہیں کبھی اس حسن کا بیاں
    گویا کہ یہ خلیق کی ہے سر بسر زیاں
    انیس
  • ظلم و ستم سے جور و جفا سے کیا کیا عاشق مارے گئے
    شہرِ حسن کے لوگوں میں کرتا نہیں کوئی وفا کی طرف
    میر
  • نہ پوچھو خود بہ خود ہے عارض خورشید کی خوبی
    لیا ہے ذرہ ذرہ حسن مہ رویاں سے کر چندا
    ناجی
  • دو دن کے چاو چوز حسن کے وہ ہو چکے
    پھر رفتہ رفتہ اپنے قرینے پہ آرہے
    میر حسن
  • پڑیا نظر یکایک ہلجیا سو جیو بے شک
    چنگی اٹھی جیوں چکمک حسن و ہمن ملالی
    قلی قطب شاہ
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 81

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter