• کثرت میں درد و غم کے نہ نکلی کوئی طپش
    کوچہ جگر کے زخم کا شاید کہ تنگ تھا
    میر تقی میر
  • ذرا تو رحم کر اے گردشِ فلک‘ ورنہ
    ہمارے درد گساروں پہ حرف آتا ہے
    یوسف رجا چشتی
  • ایک درد دل سے بولی بھر کے آہ
    رات دیکھا میں نے بھی روز سیاہ
    معروف
  • لقمان بھی حیراں رہا‘ یاں یو علی گریاں رہا
    درد دل بیمار تھا‘ انوک تھا یا بسیار تھا
    فغاں
  • رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
    آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
    غالب
  • درد پی لیتے ہیں اور داغ بچا جاتے ہیں
    یاں بلا نوش ہیں جو آئے چڑھا جاتے ہیں
    قائم
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter