• کیا درد دل میں خانہ بخانہ بیاں کروں
    کس سے یہ جاکے مضطر بانہ بیاں کروں
    الماس درخشاں
  • وہ جو گیت تم نے سنا نہیں، مری عمر بھر کا رہاض تھا
    مرے درد کی تھی وہ داستاں، جسے تم ہنسی میں اُڑا گئے
    امجد اسلام امجد
  • درد پی لیتے ہیں اور داغ بچا جاتے ہیں
    یاں بلا خوش پیں جو آئے چڑھا جاتے ہیں
    قائم
  • ترے شہرِ عدل سے آج کیا سبھی درد مند چلے گئے
    نہیں کاغذی کوئی پیرہن، نہیں ہاتھ کوئی اٹھا ہوا
    امجد اسلام امجد
  • جو دیکھے دھنی گھاس جب توں چرے
    گیا درد کر کاٹنے تج ڈرے
    قلی مشتری
  • مرا دل آتشِ فرقت میں اُس دل پر کی دہتا تھا
    نہ تھا کچھ بن جو آنا اس سے ، درد و رنج سہنا تھا
    نظیر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter