• بلوہ تھا درد خواہوں کا س کی گلی میں رات
    خوموش سب کو کردیاپر اک سخن کے بیچ
    حسرت (جعفر علی )
  • چاند کے ساتھ کئی درد پُرانے نکلے
    کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے
    امجد اسلام امجد
  • سچ تو یہ ہے عشق اک ایسا درد لطف انگیز ہے
    بے اس کے بالکل ہیچ ہے‘ گر ہو حیات جاوداں
    نقوش مانی
  • ہیں معنی بلند مرے عرش سے پرے
    مت کہہ کہ بات درد کی کرسی نشیں نہیں
    درد
  • کبھی جزا ہی نہیں رنج و درد مندی کی
    کبھی سزا ہی نہیں کبیر وخود پسندی کی
    نقوش مانی
  • شہاں کے درد کا یو دھس کلیجاں میں گیا ہے دھس
    کرے گا حشر لگ دھس دھس شہیداں کا ہے دکھ بھاری
    مریدی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter