• ہَونی۔ انہونی

    بادل ہوں یا کہ دریا‘ دونوں نہیں رُکیں گے
    صحرا کی ریت یونہی بازو کشا رہے گی!
    موسم ہو یا کہ لمحہ‘ دونوں نہیں رُکیں گے
    بے چین منظروں میں بے کل دُعا رہے گی!
    سپنا ہو یا کہ سایا‘ دونوں نہیں رُکیں گے
    رستوں میں ہاتھ ملتی پاگل ہُوا رہے گی!
    آنکھیں مری ہوں یا ہو چہرا ترا اے جاناں
    اس گرد بادِ غم میں دونوں ہی خاک ہوں گے
    دونوں نہیں رہیں گے!
    لیکن یہ خاک اپنی اِس خاکداں سے اُٹھ کر
    تاروں میں جا رہے گی
    جو درد کے مسافر‘ آئیں گے بعد اپنے
    اُن کے لیے وفا کا یہ راستہ رہے گی
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • تمہید ہو چکی تو وہ مطلب پہ بول اٹھے
    بے درد سونے دے مجھے اب داستان چھوڑ
    نشید خسروانی
  • کہوں کس سے غم درد نہانی
    نہیں اس درد کا مجھ پاس چارا
    میر
  • شہاں کے درد کا یو دھس کلیجاں میں گیا ہے دھس
    کرے گا حشر لگ دھس دھس شہیداں کا ہے دکھ بھاری
    مریدی
  • ہرآن توڑتا ہے مری آس بار بار
    اس درد وغم کو آہ میں کس سے کہوں پکار
    نظیر
  • ٹھنڈک پڑی وہ دل میں کہ درد و الم کیا
    راہ خدا میں اشکوں کا طوفان تھم گیا
    مائل
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter