• منتوں سے بھی نہ وہ حور شمائل آیا
    کس جگہ آنکھ لڑی ہائے کہاں دل آیا
    گلزار داغ
  • زمانے کی مجھے پہچان ہی جاتی رہی یارو
    گھڑی دل کی جو پہلو میں تھی کیا جانے کہاں رکھ دی
    اکبر
  • مردہ دل ہیں شکر کرتے قاضی الحاجات کا
    ہمے تو کل پر گزر تکیہ خدا کی ذات کا
    جان صاحب
  • یوسف کی اس نظیر سے دل کو نہ جمع رکھ
    ایسی متاع جاتی ہے بازار ہر طرح
    میر
  • جدھاں تھے تن کے چشمے میں جیا جل دھار ہو آیا
    تدھاں تھے عشق منج دل کے برک کا بار ہوآیا
    غواصی
  • شبوں کو تیرا تصور دنوں کو تیرا خیال
    مریض دل ہو مرا عابدیں ہے شاہد حال
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 740

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter