• تلوار کے سایہ ہی میں کاٹے ہے تو اے میر
    کس دل زدہ کو ہوئے ہے یہ ذوق فنا کا
    میر تقی میر
  • ہاں رہرو راہ فنا‘ ہاں کشتہ تیغ وفا
    ہاں میرے پیارے دل بتا‘ اس کی قیامت خیزیاں
    نقوش مانی
  • خاکبوسی کو جھکا ہوں تو دھڑکتے دل سے
    میرے خواجہ‘ مرے خواجہ کی صدا آئ ہے
    معراج سخن
  • ہر موج ہوا ہے درپے دل شکنی
    ہر سانس پہ کرتی ہے قضا خندہ زنی
    گنجینہ
  • بسان شیشہ نکالوں میں کیونکہ دل کا بخار
    کہ بولتے ہیں گلا یاں تو داب لیتے ہیں
    قائم
  • در ہی کے تئیں تکتے پتھرآگئیں آنکھیں تو
    وہ ظالم سنگیں دل کب میر کے گھر آیا
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 740

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter