• سر تا قدم ثبات دل و جملگی ادب
    صورت پکڑ کے سامنے آیا تھا لطف رب
    میر
  • سب مزے لے لے کے تری بزم سے خورم گئے
    ایک ہم کم بخت دل رکھتے تھے چشم نم گئے
    فغان
  • وہ طاقت منجد ہونے میں ہے اک دو کا کیا ہے ذِکر
    ہزاروں پر ہیں بھاری جبکہ دو دل ، دل سے مِلتے ہیں
    اودھ پنچ
  • اتجھے تو مجھ سے نغافل ہے اور استغنا
    میں مستمندِ مداوائے دل فگاری ہوں
    نقوشِ مانی
  • خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی
    غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی سی غارت کی
    میر تقی میر
  • ذرا نا امیدوں کی ڈھارس بندھا تو
    فسردہ دلوں کے دل آکر بڑھا تو
    مسدس حالی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 740

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter