• نام بے شیر کا جس وقت لکھا صغرا نے
    رکھ کے خط ہاتھ سے دل تھام لیا صغرا نے
    تعشق
  • رہ پیروی میں اُس کی کہ گامِ نحست میں
    ظاہر اثر ہے مقصد دل کے وصول کا
    میر تقی میر
  • بے درد سینہ کوثنا خالی نہیں مرا
    دل میں بھرا ہے درد مرے کوٹ کوٹ کے
    ذوق
  • اس منظر شادی پر جس وقت گرا پردا
    اک ولولہ مدحت تھا دل میں مرے پیدا
    بیخود
  • کِسی دھیان کے‘ کسی طاق پر‘ ہے دھرا ہُوا
    وہ جو ایک رشتہ درد تھا
    مرے نام کا ترے نام سے‘
    تِری صبح کا مِری شام سے‘
    سرِ رہگزر ہے پڑا ہُوا وہی خوابِ جاں
    جِسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے واسطے
    کئی لاکھ تاروں کی سیڑھیوں سے اُتر کے آتی تھی کہکشاں‘
    سرِ آسماں
    کسی اَبر پارے کی اوٹ سے
    اُسے چاند تکتا تھا رات بھر
    مرے ہم سفر
    اُسی رختِ غم کو سمیٹتے
    اُسی خوابِ جاں کو سنبھالتے
    مرے راستے‘ کئی راستوں میں اُلجھ گئے
    وہ چراغ جو مِرے ساتھ تھے‘ بُجھ گئے
    وہ جو منزلیں
    کسی اور منزلِ بے نشاں کے غبارِ راہ میں کھو گئیں
    (کئی وسوسوں کے فشار میں شبِ انتظار سی ہوگئیں)
    وہ طنابِ دل جو اُکھڑ گئی
    وہ خیامِ جاں جو اُجڑ گئے
    وہ سفیر تھے‘ اُسی داستانِ حیات کے
    جو وَرق وَرق تھی بھری ہُوئی
    مِرے شوق سے ترے روپ سے
    کہیں چھاؤں سے‘ کہیں دھوپ سے
    امجد اسلام امجد
  • آج تک حال دل بیتاب سے واقف نہیں
    یار کو جھکواؤں گا اک دن چہ سیماب میں
    آتش
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 740

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter