• وصل کی شب یہ ظلم ہو کچھ تو سبب ہے سچ کہو
    رات رہے موذنو آج اذاں سے کیا غرض
    بے نظیر شاہ
  • یہ ظلم ہے نہایت دشوار ترکہ خوباں
    بد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں
    میر
  • ظلم مت کر منجن! ولی اوپر
    تجھ کوں ہے شاہ کربلا کی قسم
    ولی
  • ہم اسیروں پہ ہے وہ ظلم کسی پر نہ ہوا
    قید میں گھرکیساں سنتے ہیں نگہبانوں کی
    راقم
  • یہ وہ ہیں ظلم سے جو ہاتھ اٹھا نہیں سکتے
    رسول بھی انھیں رستے پہ لا نہیں سکتے
    سجاد رائے پوری
  • کسی پہ لطف و کرم کسی کے، کسی پہ ظلم و ستم کسی کے
    کسے پڑی ہے میاں غرض اب جو کوئی کھولے بھرم کسی کا
    نظیر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter