• ظلم زیاستی تھے ملک پاک اس
    کہ مشرق تے مغرب تلک دھاک اس
    قطب مشتری
  • سو ظلم کے رہتے ہیں سزاوار ہمیشہ
    ہم بیگنہ اُس کے ہیں گنہگار ہمیشہ
    میر تقی میر
  • کثرت ظلم و ستم سے ہوئے عابد نہ ملول
    وہ سمجھتے تھے اتر جائے گا چڑھتا پانی
    اعجاز نوح
  • بو تونے تو ظلم و ستم و جور ہی سیکھا
    الفت تجھے آنی تھی نہ بیداد گر آئی
    الماس درخشاں
  • جتنا جی چاہے کریں ظلم و ستم وہ مجھ پر
    مجھ میں اب نام کو بھی طاقت فریاد نہیں
    قرار
  • پیار سے ہنس بیٹھنا ہے اور جگت اور جھوٹ ہے
    عدل ہے اور ظلم ہے غارت ہے لوٹا لوٹ ہے
    نظیر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter