Shair

شعر

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیں

(اسماعیل میرٹھی)

کبھی رہے گا نہ گنجینہ ظلم کیشوں کا
لگے گی آگ قرابین کے خزانے میں

(ریاض البحر)

کیسے کرسکتی ہے اس ظلم کو تاریخ معاف
میرا گھر لوٹنے والے میرے ہمسائے تھے

(محشر ‌بدایونی)

ظلم ہے‘ قہر ہے‘ قیامت ہے
غُصے میں اُس کے زیر لب کی بات

(میر تقی میر)

تم ظلم ہے ہمن کوں خوشی سو دلیل سوں
کرنا نہ کچ پکار کہ چب رہے تو ہے شفا

(قلی قطب شاہ)

ظلم کر ظلم اگر لطفِ دریغ آتا ہے
تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں

(غالب)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Poetry

Pinterest Share