• صبرِ دلِ حسین کو اب دیکھئے بغور
    وہ بے کسی وہ غم وہ مصیبت وہ ظلم و جور
    مونس
  • یہ ذکر تھا کہ آگیا خولی تلخ کام
    لایا سنان ظلم پہ اک فرق سرخ فام
    شمیم
  • یہ ظلم ہے تو ہم بھی اس زندگی سے گزرے
    سوگند ہے تمہیں اب جو درگزر کرو تم
    میر
  • جتنا ظلم وہ دل ڈھاتا ہے
    جو بد مسلک ہوجاتا ہے
    دھم پد
  • ظلم و ستم کی ناؤ ڈبونے کے واسطے
    قطرہ کو آنکھوں آنکھوں میں طوفاں بنادیا
    ظفر علی خاں
  • ظلم اعداد نے کیا جب سے تمہیں گوشہ نشیں
    چاند سورج کو ہے گردوں پہ اسی دن سے گہن
    اسیر( مظفر علی)
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter