Shair

شعر

اے سوز ترے عشق کا سودا یہ ہوا گرم
اب دیکھ تو ٹک گرمی بازار محبت

(سوز)

دل گو چھٹا دہن سے پھنسایا تو زلف میں
اے عشق تیری بات بڑھانے کو عشق ہے

(قائم)

کچھ فائدہ نہیں ہے نصیحت کا اب مری
ناصح حیا میں عشق میں اپنی اڑا چکا

(دو نایاب)

سر گرم سوز عشق رہے ہے یہ مثل شمع
تن گھل گیا ہے اور پگھلتی ہیں ہڈیاں

(میرحسن)

اوس کا یک لقمہ برہ کونین
پیشہ عشق کا جو ناہر ہے

(شاہ کمال)

ترا سوداے عشق اندر رگ و پے کے مرے یوں ہے
تب سوداوی جیسے ہڈیوں کے بیچ جڑ جاوے

(اظفری)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 163

Poetry

Pinterest Share