• کیا عشق خانہ سوز کے دل میں چھپی ہے آگ
    اک سارے تن بدن میں مرے پھک رہی ہے آگ
    میر تقی میر
  • بلائے عشق تو دشمن کو بھی نصیب نہ ہو
    مرا رقیب بھی رویا گلے لگا کے مجھے
    داغ
  • پرشور سے ہے عشق معنی پسراں کے
    یہ کاسۂ سر کاسۂ طنبور ہوا ہے
    میر تقی میر
  • بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
    کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
    غالب
  • عشق بولا گو مجھے آئی نہیں لاف و گزاف
    لیکن اب میری زباں کھلتی ہے گستاخی معاف
    نقوش مانی
  • میرا تمام فن ‘ مِری کاوش مِرا ریاض
    اِک ناتمام گیت کے مصرعے ہیں جن کے بیچ
    معنی کا ربط ہے نہ کسی قافیے کا میل
    انجام جس کے طے نہ ہُوا ہو‘ اِک ایسا کھیل!
    مری متاع‘ بس یہی جادُو ہے عشق کا
    سیکھا ہے جس کو میں نے بڑی مشکلوں کے ساتھ
    لیکن یہ سحرِ عشق کا تحفہ عجیب ہے
    کھلتا نہیں ہے کچھ کہ حقیقت میں کیا ہے یہ!
    تقدیر کی عطا ہے یا کوئی سزا ہے یہ!
    کس سے کہیں اے جاں کہ یہ قصہ عجیب ہے
    کہنے کو یوں تو عشق کا جادو ہے میرے پاس
    پر میرے دِل کے واسطے اتنا ہے اس کا بوجھ
    سینے سے اِک پہاڑ سا‘ ہٹتا نہیں ہے یہ
    لیکن اثر کے باب میں ہلکا ہے اس قدر
    تجھ پر اگر چلاؤں تو چلتا نہیں ہے یہ!!
    امجد ‌اسلام ‌امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 163

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter