• نہیں مانے گی یہ جھگڑالو عورت ہے
    فساد کی جڑ ہے یہ چڑالو عورت ہے
    دلاور
  • وو ہلکا شور و شر کرکے جھڑک جھٹ مٹ کریں جھگڑا
    بچکنا چلبچل ہونا چنچل عورت کے جھگڑے پر
    ہاشمی
  • دلدل جو ہو رہی ہے ہر اک جا پہ رسمسی
    مر مر اٹھا ہے مرد تو عورت رہی پھنسی
    نظیر
  • کہو کیا عیب ہے بولو مٹھی تاڑی سیندھی پینا
    کہی اوئی عیب کو گے نیں موی عورت کوں پینے کا
    ہاشمی
  • ہے عورت اک لطیف جنس اپنے مرد کے لیے
    یہ فطرت اس کی ہے کہ اس کی سمت اس کا دل کھنچے
    عالم
  • غصہ عورت میں نا اچھنا غصے سوں ناندے نا جاتا
    کتی ہے خرخشہ جیو کوں ہوی سر گرداں چپ رس رس
    ہاشمی
First Previous
1 2 3 4 5
Next Last
Page 1 of 5

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter