• دل جو تڑیا نہ ہوا ضبط فغاں رونے لگی
    دونوں ہاتھوں سے جگر تھام کے ماں رونے لگی
    عروج لکھنؤی
  • نشٹ کا یہ راج ہے نہ فرق برتے دیکھ
    سارشبد ٹکسار ہے ہردے ماں ہے وویک
    کبیر
  • منکر پاک ہے وہ شیشے کی خوں ریزی سے
    مرد ماں دیکھو تو پھر آنکھیں ہیں کیوں لال اس کی
    جوشش
  • موہے چھو کر فیض ملا کرتا زحال اشراقیین مکن تغافل جیوں نہ ملا اکتساب کباتاں ماں
    امیر خسرو
  • سو پُر پیچ زلفاں سرنگ گال پر
    کنڈال گھال ناگاں بیٹھے ماں پر
    حسن شوقی
  • مایوسِ وصل اُس کے کیا سادہ مُرد ماں ہیں
    گُزرے ہے میر اُن کو امیدوار ہر شب
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter