• ماں کی آنکھیں چراغ تھیں جس میں
    میرے ہمراہ وہ دعا بھی تھی
    امجد اسلام امجد
  • جو ماں کی بی نیں بات شہ ٹک سنیا
    ہزاراں نقش ناصحاں پر چنیا
    قطب مشتری
  • مایوسِ وصل اُس کے کیا سادہ مُرد ماں ہیں
    گُزرے ہے میر اُن کو امیدوار ہر شب
    میر تقی میر
  • سوا لنگوٹ کے تن پر تھی بس رمائی بھبو
    یوں ہی وہ برف میں پالے میں رہتا ماں کا پوت
    جگ بیتی
  • اناتمنا سوں کیا کوں ماں مجھے کہتے شرم آئی
    چھے مہینے کے بھتر پیروکوں پاڑی آس کاٹی نے
    ہاشمی
  • اپنی ماں کے رات دن سینے لگے
    پانچوں بچے دودھ کچھ پینے لگے
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter