Shair

شعر

موہے چھو کر فیض ملا کرتا زحال اشراقیین مکن تغافل جیوں نہ ملا اکتساب کباتاں ماں

(امیر خسرو)

افسوس کیا کروں ماں اجڑیاں یوبیگا بیگی
طاقت تبی رہی نیں اس دُکھ سوں دل جلی کا

(ہاشمی)

اگر شاہ بن شاہ بن شاہ ہے
وگر باب خورشید ماں ماہ ہے

(حسن شوقی)

جو ماں کی بی نیں بات شہ ٹک سنیا
ہزاراں نقش ناصحاں پر چنیا

(قطب مشتری)

بلا لوں بول تو منہ سے بھلا تو
تری ماں دھک ترے جلائے اصغر

(سودا)

پروین کے ’’گِیتو‘‘ کے لیے ایک نظم

ہاں مری جان‘ مِرے چاند سے خواہر زادے!
بُجھ گئیں آج وہ آنکھیں کہ جہاں
تیرے سپنوں کے سِوا کُچھ بھی نہ رکھا اُس نے‘
کِتنے خوابوں سے‘ سرابوں سے الُجھ کر گُزری
تب کہیں تجھ کو‘ ترے پیار کو پایا اُس نے
تو وہ ‘‘خُوشبو‘‘تھا کہ جس کی خاطر
اُس نے اِس باغ کی ہر چیز سے ’’انکار‘‘ کیا
دشتِ ’’صد برگ‘‘ میں وہ خُود سے رہی محوِ کلام
اپنے رنگوں سے تری راہ کو گلزار کیا
اے مِری بہن کے ہر خواب کی منزل ’’گِیتو‘‘
رونقِ ’’ماہِ تمام‘‘
سوگیا آج وہ اِک ذہن بھی مٹی کے تلے
جس کی آواز میں مہتاب سفر کرتے تھے
شاعری جس کی اثاثہ تھی جواں جذبوں کا
جس کی توصیف سبھی اہلِ ہُنر کرتے تھے

ہاں مِری جان‘ مِرے چاند سے خواہر زادے
وہ جِسے قبر کی مٹّی میں دبا آئے ہیں
وہ تری ماں ہی نہ تھی
پُورے اِک عہد کا اعزاز تھی وہ
جِس کے لہجے سے مہکتا تھا یہ منظر سارا
ایسی آواز تھی وہ
کِس کو معلوم تھا ’’خوشبو‘‘ کی سَفر میں جس کو
مسئلہ پُھول کا بے چین کیے رکھتا ہے
اپنے دامن میں لیے
کُو بَکُو پھیلتی اِک بات شناسائی کی
اِس نمائش گہ ہستی سے گُزر جائے گی
دیکھتے دیکھتے مٹی مین اُتر جائے گی
ایسے چُپ چاپ بِکھر جائے گی

(امجد اسلام امجد)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14

Poetry

Pinterest Share