Shair

شعر

نشے میں نیند کے، تارے بھی، اک دوجے پر گرتے ہیں
تھکن رستوں کی کہتی ہے چلو اب اپنے گھر جائیں

(امجد اسلام امجد)

شبوں کو نیند آتی ہی نہیں ہے
طبیعت چین پاتی ہی نہیں ہے

(ابنِ انشا)

شب غم ان کو نیند کیا آتی
دھوم ڈالی تھی میرے نالوں نے

(شعاع مہر)

نہ آوے نیند ہمسایاں کوں مرے چلانے تھے
گلا یو آہ بھرنے تھے ہوا ہے چلچلا یارب

(غواصی)

نہ سائباں نہ کوئی چاندنی بچھائی ہے
یہ جان دے کے جوانی کی نیند آئی ہے

(شمیم)

سوتے وہ کیا کہ حسرت تیغ آزمائی تھی
بچپن کی نیند نرکسی آنکھوں میں چھائی تھی

(مونس)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Poetry

Pinterest Share