• ہوئیں رُسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا
    ہوا وہ بے مروت بے وفا ہرگز نہ یار اپنا
    میر
  • رکھتا نہیں طریق وفا میں کبھو قدم
    ہم کچھ نہ سمجھے راہ روشن اپنے یار کی
    میر
  • اُس نے عدو کا شوگ کیا ،یاں اُس سے وفا کی آس بندھی
    داغِتمنا ، رنگِ حنا کی دیکھا دیکھی چُھوٹ گیا
    فانی
  • سمور وفا تم و سنجاب ہے سرمامیں منعم کو
    رکھیں ہیں آسرا غرباے لنج ولنگ آتش کا
    سودا
  • کس دل سے اب کسی سے امیدِ وفا کریں
    جب تم بھی مثلِ گردشِ دوراں بدل گئے
    نامعلوم
  • شاید وفا کے کھیل سے اُکتا گیا تھا وہ
    منزل کے پاس آکے جو رستہ بدل گیا
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter