• جفا کیجیے یا وفا کیجیے
    طبیعت تو اب آپ پر آگئی
    ناز
  • ظالم ہو میری جان پہ ناآشنا نہ ہو
    بے رحمی اتنی عیب نہیں بے وفا نہ ہو
    میر تقی میر
  • ہر شخص کی خُوں رنگ قبا ہے کہ نہیں ہے!
    یہ قتل گہہِ اہلِ وفا ہے کہ نہیں ہے!
    امجد اسلام امجد
  • عمر بھر کا تونے پیمان وفا باندھا تو کیا
    عمر کو بھی تو نہیں ہے پائداری ہاے ہاے
    غالب
  • ہیلن
    (مارلو کے اشعار کا آزاد ترجمہ)
    ’’یہی وہ چہرہ تھا
    جس کی خاطر ہزار ہا بادبان کُھلے تھے
    اسی کی خاطر
    منار ایلم کے راکھ بن کر بھسم ہوئے تھے
    اے میری جانِ بہار ہیلن!
    طلسمِ بوسہ سے میری ہستی امر بنادے
    (یہ اس کے ہونٹوں کے لمسِ شیریں میں کیا کشش ہے کہ روح تحلیل ہورہی ہے)
    اِک اور بوسہ
    کہ میری رُوحِ پریدہ میرے بدن میں پلٹے
    یہ آرزو ہے کہ ان لبوں کے بہشت سائے میں عُمر کاٹوں
    کہ ساری دُنیا کے نقش باطل
    بس ایک نقشِ ثبات ہیلن
    سوائے ہیلن کے سب فنا ہے
    کہ ہے دلیلِ حیات ہیلن!
    اے میری ہیلن!
    تری طلب میں ہر ایک ذلّت مجھے گوارا
    میں اپنا گھر بارِ اپنا نام و نمود تجھ پر نثار کردوں
    جو حکم دے وہ سوانگ بھرلوں
    ہر ایک دیوار ڈھا کے تیرا وصال جیتوں
    کہ ساری دنیا کے رنج و غم کے بدل پہ بھاری ہے
    تیرے ہونٹوں کا ایک بوسہ
    سُبک مثالِ ہوائے شامِ وصال‘ ہیلن!
    ستارے پوشاک ہیں تری
    اور تیرا چہرہ‘ تمام سیّارگاں کے چہروں سے بڑھ کے روشن
    شعاعِ حسنِ اَزل سے خُوشتر ہیں تیرے جلوے
    تُمہیں ہو میری وفا کی منزل…!
    تُمہیں ہو کشتی‘ تمہیں ہو ساحل‘‘
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • دیکھ لیں شمع کو تاثیرِ وفا کے منکر
    جل بجھی خود بھی‘ جلایا تھا جو پروانے کو
    حسرت
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter