• چنانچہ ایک دن اوس شوخ بے وفا سے اجی
    جو میں نے پوچھا وفا بھی کسی سے کی ہے کبھی
    الماس درخشاں
  • پہلے مرے گا آپ سے یہ با وفا غلام
    رو کر کہا کہ ہاں یہی ہوے گا لا کلام
    انیس
  • بخت واڑوں نے دکھایا یہ زمانہ الٹا
    جس سے کرتا ہوں وفا میں وہ جفا کرتا ہے
    سحر(نواب علی خاں)
  • ستم سے گویہ ترے کشتہ وفا نہ رہا
    رہے جہان میں تو دیر میں رہا نہ رہا
    میر تقی میر
  • دونوں وفا کرکے ناخوش ہیں
    دونوں کیے پر شرمندہ
    درد آشوب
  • وہ بے وفا نظر انداز کر نہ دے اے اشک
    خدا ہی رکھ لے یہ موتی سی آبرو تیری
    شرف
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter