Shair

شعر

رہا ہے ایک عالم اور دنیا داروں میں اس کا
کیا ہے بے وفا معلوم سب عالم نے دنیا کو

(میر)

یہ اہلِ شہرِ وفا ہیں عجب بہار پرست
سروں کے پھول فصیلوں پہ دھرتے جاتے ہیں

(امجد اسلام امجد)

صفا و صدق سوں تیرے وفا میں نیں ہے ثابت جن
نہ کیوں نڑڑے چکل اس کوں اجل آنا گہاں پکڑے

(غواصی)

افسوس پڑگئے ہیں کف پا میں آبلے
آیا ہے بے وفا کبھی مجھ تک جو خواب میں

(دیوان تسلیم)

شمار اہل وفا سوقیوں میں ہونے لگا
اتر گیا ہے محبت کی جنس کا بازار

(ساکت ، امروہوی)

نگاہِ حُسن سے اب تک وفا ٹپکتی ہے
ستم رسیدہ سہی‘ پیرہن دریدہ سہی

(یاس ‌یگانہ)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Poetry

Pinterest Share