• ولی اس بے وفا کے قول پر کیا اعتبار آوے
    کہ ظالم ہے دو رنگی ہے ستمگر ہے شرابی ہے
    ولی
  • ہوئیں رُسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا
    ہوا وہ بے مروت بے وفا ہرگز نہ یار اپنا
    میر
  • بھروسہ کیا صفی اس بے وفا کا
    نفس بار دگر آئے نہ آئے
    صفی
  • ستم اٹھائے وفا تباہی شکایت اس کی نہیں ہے اے دل
    مگر بھلائی کی تونے ان سے امید رکھی بہت بری کی
    تسلیم
  • صفا و صدق سوں تیرے وفا میں نیں ہے ثابت جن
    نہ کیوں نڑڑے چکل اس کوں اجل آ نگہاں پکڑے
    غواصی
  • صد کی ہے اور بات مگر کوبری نہیں
    بھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کیے
    غالب
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter