• وفا کی تشہیر کرنے والا فریب گر ہے ستم تو یہ ہے
    نگاہِ یاراں میں پھر بھی وہ شخص معتبر ہے ستم تو یہ ہے
    گلزار ‌بخاری
  • بے ادب ، بے وفا و بے آزرم
    بےحیا بے مروت و بے شرم
    قاضی اختر
  • لفظ و منی کی صداقت نہ بدل جائے کہیں
    آج اپنوں سے مجھے بوئے وفا آتی ہے
    شاعر ‌لکھنوی
  • کس طرح مجھے ہوتا گماں ترکِ وفا کا
    آواز میں ٹھہراؤ تھا لہجے میں روانی
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • رستے میں دوستوں کے بچا کر وفا کے پھول
    ہم نے خود اپنی راہ میں کانٹے بچھالیے
    طفیل ہوشیار پوری
  • وفا کے دشت میں رستہ نہیں ملا کوئی
    سوائے گرد سفر ، ہم سفر نہیں آیا
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter