• درد کی رہگزار میں، چلتے تو کس خمار میں
    چشم کہ بے نگاہ تھی، ہونٹ کہ بے خطاب تھے
    امجد اسلام امجد
  • وہ عجیب پھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
    مرے دشتِ خواب میں دور تک، کوئی باغ جیے لگا گئے
    امجد اسلام امجد
  • ہونٹ پپڑاے جو اس کی گرمئی صحبت سے رات
    جھاڑ میں شمعیں پگھل کر موم روغن ہو گئیں
    امانت
  • تج نین تھے سک چین سب پائے ہیں آدم اور ملک
    امرت پنی سیتی سدا تج ہونٹ برساویں بعث
    قلی قطب شاہ
  • طلب جو ہو بھی تو ہم ہونٹ بند رکھتے ہیں
    کہ ہم انا کا عَلم سربلند رکھتے ہیں
    جمشید ‌مسرور
  • دو کالے ہونٹ ، جام سمجھ کر چڑھا گئے
    وہ آب جس سے میں نے وضو تک کیا نہ تھا
    بشیر بدر
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter