• ہونٹ ہلنے سے بھی پہلے جو یہ اڑجاتا ہے
    جی میں پھرتا ہے مگر لب پہ نہیں آتا ہے
    پیارے صاحب رشید ،
  • دپٹہ سہاوے جیو سہماے
    ہونٹ سلونیں من لبھائے
    نو سرہار
  • خلط کی خوبی، ہونٹ توڑ لیا
    جسے چاہا اسے بھنبھوڑ لیا
    انشا
  • مرے دل کو رکھتا ہے شادماں، مرے ہونٹ رکھتا ہے گل فشاں
    وہی ایک لفظ جو آپ نے مرے کان میں ہے کہا ہوا
    امجد اسلام امجد
  • ہوں داغ ناز کی کہ کیا تھا خیال بوس
    گلبرگ سادہ ہونٹ جو تھا نیلگوں ہوا
    میر
  • طلب جو ہو بھی تو ہم ہونٹ بند رکھتے ہیں
    کہ ہم انا کا عَلم سربلند رکھتے ہیں
    جمشید ‌مسرور
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter