• چونا تھا لگا ہونٹ میں نو ڈھولیاں ہاریں
    پوچھا تو کہا نوٹکے ڈولی ہے گھر اپنا
    جان صاحب
  • ترے ہونٹ خرما نین تج بدام
    ترے تل اہیں دانے ہور زلف دام
    قلی قطب شاہ
  • درد کی رہگزار میں، چلتے تو کس خمار میں
    چشم کہ بے نگاہ تھی، ہونٹ کہ بے خطاب تھے
    امجد اسلام امجد
  • طلب جو ہو بھی تو ہم ہونٹ بند رکھتے ہیں
    کہ ہم انا کا عَلم سربلند رکھتے ہیں
    جمشید ‌مسرور
  • میں تو چپ ہوں وہ ہونٹ چاٹے ہے
    کیا کہوں ریجھنے کی جا ہے یہ
    میر
  • دپٹہ سہاوے جیو سہماے
    ہونٹ سلونیں من لبھائے
    نو سرہار
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter