• اے کمینے دانت ہے سوہا نہیں
    ہے ادھوری ہونٹ تو اس کا نہیں
    حسن علی خاں
  • سیل کی رہگزر ہوئے، ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
    کیسی عجیب پیاس تھی، کیسے عجب سحاب تھے!
    امجد اسلام امجد
  • پُھوٹیں گے اَب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب!
    آئے گی اب نہ لَوٹ کے آنکھوں میں کیا‘ وہ نیند!
    امجد اسلام امجد
  • دانتوں کے تلے ہونٹ نہ غصے میں دباؤ
    ہو خونِ مسیحا تو نہ بہرے کی کنی سے
    الماس درخشاں
  • ترے ہونٹ خرما‘ نین تج بدام
    ترے تل اہیں دانے ہور زلف دام
    قلی قطب شاہ
  • آزردہ ہونٹ تک نہ ہلے اس کے رو برو
    مانا کہ آپ سا کوئی جادو بیاں نہیں
    آزردہ
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter