• کیا علم انھوں نے سیکھ لیے جو بن لکھے کو بانچے ہیں
    اور بات نہیں منھ سے نکلے بن ہونٹ ہلائے جانچے ہیں
    نظیر
  • دانتوں کے تلے ہونٹ نہ غصے میں دباؤ
    ہو خونِ مسیحا تو نہ بہرے کی کنی سے
    الماس درخشاں
  • طلب جو ہو بھی تو ہم ہونٹ بند رکھتے ہیں
    کہ ہم انا کا عَلم سربلند رکھتے ہیں
    جمشید ‌مسرور
  • پھوٹیں گے اب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب!
    آئے گی اب نہ لوٹ کے آنکھوں میں کیا، وہ نیند!
    امجداسلام امجد
  • کب ہو جلاد فلک مین اس گھڑ بارائے نطق
    ہونٹ لاگے چاٹنے لکنت کرے منہ میں زباں
    سودا
  • برہا ڈسن کے درد تھیں بیاکل پڑے نت زرد ہو
    بے کس ہونٹ جا بیل تے جیوں پات بپیلا جھڑ پڑے
    شاہی
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter