• دانتوں کے تلے ہونٹ نہ غصے میں دباؤ
    ہو خونِ مسیحا تو نہ بہرے کی کنی سے
    الماس درخشاں
  • سیل کی رہگزر ہوئے، ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
    کیسی عجیب پیاس تھی، کیسے عجب سحاب تھے!
    امجد اسلام امجد
  • ہونٹ ہلنے سے بھی پہلے جو یہ اڑجاتا ہے
    جی میں پھرتا ہے مگر لب پہ نہیں آتا ہے
    پیارے صاحب رشید ،
  • اے کمینے دانت ہے سوہا نہیں
    ہے ادھوری ہونٹ تو اس کا نہیں
    حسن علی خاں
  • وہ عجیب پھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
    مرے دشتِ خواب میں دور تک، کوئی باغ جیے لگا گئے
    امجد اسلام امجد
  • برہا ڈسن کے درد تھیں بیاکل پڑے نت زرد ہو
    بے کس ہونٹ جا بیل تے جیوں پات بپیلا جھڑ پڑے
    شاہی
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter