• برسوں کے بعد دیکھا اِک شخص دِلُربا سا
    اب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا
    احمد فراز
  • خلقت کے آوازے بھی تھے بند اس کے دروازے بھی تھے
    پھر بھی اس کوچے سے گزرے‘ پھر بھی اس کا نام لیا ہے
    احمد فراز
  • غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کرلو
    نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
    احمد فراز
  • اپنی آشفتہ مزاجی پہ ہنسی آتی ہے
    دشمنی سنگ سے اور کانچ کا پیکر رکھنا
    احمد فراز
  • اور ہوں گے کہ جو آئینہ صفت جیتے ہیں
    میں تو مرجاؤں اگر کوئی مقابل نہ رہے
    احمد فراز
  • تیری نظروں میں مرے درد کی قیمت کیا تھی
    مرے دامن نے تو آنسو کو گہر جانا تھا
    احمد فراز
First Previous
1 2 3
Next Last
Page 1 of 3

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter