Shair

شعر

خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُونے کیا
مِرے خُدا‘ مِرے پروردگار تُونے کیا

(امجد اسلام امجد)

میں یُونہی خاک کی پستی میں ڈولتا رہتا
ترا کرم کہ مجھے استوار تُونے کیا

(امجد اسلام امجد)

مِرے لہُو میں رکھے اپنی خلوتوں کے راز
پھر اس کے بعد مجھے بے قرار تُونے کیا

(امجد اسلام امجد)

خطا کے بعد خطا‘ پے بہ پے ہُوئی مجھ سے
معاف مجھ کو مگر بار بار تُونے کیا

(امجد اسلام امجد)

شبیہہ اپنی بنادی ہماری آنکھوں میں
پھر ان کو وقفِ رہِ انتظار تُونے کیا

(امجد اسلام امجد)

جُھلستی ریت میں اُگنے لگے ہیں پُھول ہی پُھول
کرم جو مُجھ پہ کیا بے شمار تُونے کیا

(امجد اسلام امجد)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 206

Poetry

Pinterest Share