Shair

شعر

ظالم میں کہہ رہا تھا تو اس خو سے درگزر
سودا کا قتل ہے یہ چھپایا نہ جائے گا

(سودا)

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن‘ کچھ تو اِدھر بھی

(سودا)

بھلا گل تو ہنستا ہے ہماری بے ثباتی پر
بتا روتی ہے کس کی ہستی‘ موہوم پر شبنم

(سودا)

یہ تو نہیں کہتا کہ سچ مچ کرو انصاف
جھوٹی بھی تسلی ہو تو جیتا ہی رہوں میں

(سودا)

نکل وطن سے ہے غربت میں زور کیفیت
کہ آن بحت ہے جب تک ہے تاک میں صہبا

(سودا)

ہوئے ہیں غرق ہم جس طرح آب چشم میں اپنے
بھلا اے ابریوں دریا میں تو تو ڈوب دیکھیں ہم

(سودا)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 99

Poetry

Pinterest Share