Shair

شعر

غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں

(غالب)

تھی وہ اک شخص کے تصوّر سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں

(غالب)

تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے

(غالب)

ڈھونڈے ہے اُس مغنئ آتش نفس کو جی
جس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے

(غالب)

زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھادیتے تھے
دیکھوں اب مرگئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے

(غالب)

زباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لئے

(غالب)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 127

Poetry

Pinterest Share