Shair

شعر

ہم ہوئے‘ تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

(میر تقی میر)

چلتے ہو تو چمن کو چلئے سنتے ہیں کہ بہاراں ہے
پھول کھلے ہیں پات ہرے ہیں کم کم باد و باراں ہے

(میر تقی میر)

مجرم ہوئے ہم دل کے ورنہ
کس کو کسو سے ہوتی نہیں چاہ

(میر تقی میر)

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
نادان پھر وہ دل سے بھلایا نہ جائے گا

(میر تقی میر)

تیرے فراق میں جیسے خیال مفلس کا
گئی ہے فکر پریشان کہاں کہاں میری

(میر تقی میر)

موئے سہتے سہتے جفا کاریاں
کوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں

(میر تقی میر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 290

Poetry

Pinterest Share