Shair

شعر

ہر صدف بلورسے شفاف تھی
ریگ بھی اب گہرسے صاف تھی

(نظیر)

جس نے اس دنیا میں آکر ایک دن بھی پی نہ بھنگ
اس نے سچ پوچھوتو کیا دکیھا جہاں کا آب ورنگ

(نظیر)

ستم یہ دیکھ اک آتش زدی بلبل جو چہکاری
تولی پھر راہ جنگل کی نکل اس طور یک باری

(نظیر)

کیا تونگر کیا غنی کیا پیر اور کیا بالکا
سب کے دل کو فکر ہے دن رات آتے دال کا

(نظیر)

زخم شانوں کے تری زلفوں نے اے وعدہ خلاف
آخرش لیت و لعل سے آج کل کر بھردییے

(نظیر)

جب میں روتا ہوں تو آنکھوں سے برس جاتی ہے
کبھی ساون کی جھڑی اور کبھی بھادوں کی بھرن

(نظیر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 171

Poetry

Pinterest Share