• ہر صدف بلورسے شفاف تھی
    ریگ بھی اب گہرسے صاف تھی
    نظیر
  • جس نے اس دنیا میں آکر ایک دن بھی پی نہ بھنگ
    اس نے سچ پوچھوتو کیا دکیھا جہاں کا آب ورنگ
    نظیر
  • ستم یہ دیکھ اک آتش زدی بلبل جو چہکاری
    تولی پھر راہ جنگل کی نکل اس طور یک باری
    نظیر
  • کیا تونگر کیا غنی کیا پیر اور کیا بالکا
    سب کے دل کو فکر ہے دن رات آتے دال کا
    نظیر
  • زخم شانوں کے تری زلفوں نے اے وعدہ خلاف
    آخرش لیت و لعل سے آج کل کر بھردییے
    نظیر
  • جب میں روتا ہوں تو آنکھوں سے برس جاتی ہے
    کبھی ساون کی جھڑی اور کبھی بھادوں کی بھرن
    نظیر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 171

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter