Shair

شعر

خدا کی سوں نہ دیکھا شوخ و عیار
جو عشق اندر جہاں گشتیم بسیار

(افضل جھنجھانوی)

عشق ان شہری غزالوں کا جنوں کو اب کھینچا
وحشتِ دل بڑھ گئی آرام جاں رم ہوگیا

(میر تقی میر)

عشق خون جگر رلاتا ہے
کوہ اور دشت میں بھراتا ہے

(حسرت)

ہے راہ عشق مشکل آساں نہ جان اس کو
نبھ جائے گا فغاں تو اتنا دلیر کیا ہے

(انتخاب)

نہیں ہے حس میں تیرا عشق اس تھے
ہزاراں بار بہتر سنگ خارا

(عبد اللہ قطب شاہ)

ہلتی نئی نت اسکندری بتلا وو کرتا ہے منع
دل کے ملوک یاں آؤ مت ہوئے عشق کےیم میں غریق

(ہاشمی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 161
Pinterest Share