Shair

شعر

سو ماں باپ کوں شہ دلاسا دے کر
چلیا اپنے معشوق کے شہر ادھر

(قطب مشتری)

آنکھیں بچھائیں ماں نے جو تم گھٹینوں چلے
تلووں سے اس نے دیدہ حق میں سدا ملے

(انیس)

کہی کٹنی مینا کوں، ماں ہوں تری
چچی دو برس توں پیئی ہے مری

(مینا ستونتی)

بابا نے دل کو سخت کیا غم نے کھائیے
مرنا ہے ماں سے دودھ بھی تو بخشوائیے

(مونس)

ماں ہوں میں کلیجا نہیں سینےمیں سنبھلتا
صاحب مرے دل کو ہے کوئی ہاتھوں سے ملتا

(انیس)

نرغہ مرے ماں جاے پہ ہے اہل جفا کا
یہ وقت ہے بن باپ کے بچوں کی دعا کا

(انیس)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14
Pinterest Share