Shair

شعر

صورت اشک سفر کردہ ہوں آوارہ مزاج
نہ پھر آنے کی ہوس ہے نہ وطن کی خواہش

(نسیم دہلوی)

وطن کی جس سے سبکی ہو نہ لب تک بھی وہ حزف آئے
کہیں ہندوستاں کے نام پر دھّیا نہ آ جائے

(اختر (ہری چند))

ممبئی تک ترے مشتاق چلے آئے ہیں
تیرے دیرینہ رفیقان وطن تیرے لیے!

(اختر شیرانی)

پیاسے گو بے وطن کو ستاتے ہو ظالموں
دکھتا کلیجا اور دکھاتے ہو ظالموں

(شمیم)

آنکھیں جو دم نزع ہوئیں بند کھلے کان
آواز سنائی پڑی یاران وطن کی

(اشک)

ان کا تشکر بھی ہے فرض دل و جان پر
روح وطن بن گئے‘ جو مرے خونیں قبا

(سمندر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11
Pinterest Share