URDU encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

search by category

قسم کے ذریعہ تلاش کریں

search by Word

لفظ کے ذریعہ تلاش کریں

Birdپرندہ

Falcon عُقاب

English NameFalcon
Group of AnimalBird
Pluralعقابوں ∕ شاہینوں
Male جی ہاں
Femaleشاہینہ / مادہ عُقاب
Baby Animal's Nameچُوزہ
Soundچلانا / چیخنا
Urdu Name بہری
Image

Description

تفصیل

عقاب کا شمار بڑے شکاری پرندوں میں ہوتا ہے۔ یہ پرندوں کی Falconiforms نسل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا Accipitridae سے تعلق ہے۔ عقاب مختلف اقسام میں پائے جانے کے باوجود ایک دوسرے سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ دنیا میں عقاب کی 37 اقسام / نسلیں پائی جاتی ہیں جو زیادہ تر یورپ‘ ایشیا اور افریقہ میں ہیں۔ عقاب کی صرف دو قسمیں ایسی ہیں جو شمالی امریکا میں پائی گئی ہیں جنہیں سنہرا عقاب (Golden Eagle) اور گنجا عقاب (Bald Eagle) کہتے ہیں البتہ دیگر نسلیں جنوبی امریکہ میں موجود ہیں۔ عقاب دوسرے شکاری پرندوں کی نسبت اپنی بڑی جسامت کی وجہ سے تھوڑا سا مختلف ہے۔ ایک جوان عقاب کے پَر مضبوط ‘ چوڑے اور لمبے ہوتے ہیں جس کی بنا پر وہ نہ صرف تیز رفتار ہوتا ہے بلکہ دوران پرواز اپنی سمت بھی تیزی سے بدلنے میں کمال مہارت رکھتا ہے۔ عقاب جب فضا میں غوطہ لگاتا ہے تو اس کی رفتار 200 میل (320 کلومیٹر) تک ہوتی ہے گویا زمین پر پائی جانے والی کسی بھی مخلوق سے سب سے تیز رفتار حرکت کرنے والا پرندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال جیسے شاعر نے عقاب / شاہین کو اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے۔ اس کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اپنا آشیانہ (گھونسلہ) نہیں بناتا اور بلندی پر چٹانوں کے درمیان ہی بسیرا کرتا ہے۔ بقول شاعر ’’تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں‘‘ نر عقاب کی جسامت مادہ عقاب سے تقریباً ایک تہائی کم ہوتی ہے۔ عموماً مادہ عقاب ایک وقت میں دو انڈے سیتی ہے جن سے بچے نکلتے ہیں۔ ذرا بڑا ہونے پر یہ بچے نہ صرف آپس میں لڑتے رہتے ہیں بلکہ ایک بچہ اپنے والدین کی توجہ حاصل کرنے میں زیادہ کامیاب رہتا ہے جس کی بنا پر وہ خوراک بھی زیادہ حاصل کرلیتا ہے اور اس کی جسامت بھی تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔ پھر یہ بڑا بچہ چھوٹے بچے کو نوچ نوچ کر کھانا شروع کردیتا ہے اور آخر کار چھوٹا بچہ دم توڑ دیتا ہے اور بڑا بچہ اس کو چٹ کرجاتا ہے۔ گویا ایک وقت میں ایک ہی بچہ پرورش پاکر جوان ہوتا ہے۔ عقاب کی بصارت بے پناہ تیز ہوتی ہے جس کی بنا پر وہ اپنے شکار کو طویل فاصلے اور نہایت بلندی سے بھی دیکھ لیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق عقاب کی نگاہ انسانی نگاہ سے تقریباً 2.6 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اردو زبان میں ’’عقابی نظر‘‘ بطور اصطلاح چاق و چوبند نگرانی کے کام میں استعمال کی جاتی ہے۔

Poetry

Pinterest Share