• نظروں میں تھیں صفیں جو یمین و یسار کی
    منہ اس بلا کا ایک تھا آنکھیں ہزار کی
    مونس
  • آنکھیں پھیلا کے جدھر فوج گراں میں دیکھا
    نہ تو افسر تھے جگہ پر نہ علمدار بجا
    یاور اعظمی
  • تلوار کے تلے بھی ہیں آنکھیں تری اُدھر
    تو اس ستم کا میر سزاوار کیوں نہ ہو
    میر تقی میر
  • بَس گئیں یُوں مری آنکھوں میں کسی کی آنکھیں
    ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہر جھیل میں اپنی آنکھیں
    رُوحی ‌کنجاہی
  • سر جائیگا ولیکن آنکھیں اُدھر ہی ہوں گی
    کیا تیری تیغ سے ہم قطع نظر کریں گے
    میر تقی میر
  • عمر اسی تضاد میں، رزقِ غبار ہوگئی
    جسم تھا اور عذاب تھے، آنکھیں تھیں اور خواب تھے
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter