• جن مردماں کو آنکھیں دیا ہے خدانے وے
    سرمہ کریں ہیں رہ کی تری خاک دھول کا
    میر
  • غیروں سے دے اشارے ہم سے چھپا چھپا کر
    پھر دیکھنا ادھر کو آنکھیں ملا ملا کر
    میر تقی میر
  • خزاں کا روپ بھی دلکش ہے آنکھیں ہوں تو کھل جائے
    تم ایسوں سے ابھی اے نوجاونو کم نہیں ہیں ہم
    شاد
  • رہا کیا ہے دل ویراں میں اک ارمان خالی ہے
    جدھر آنکھیں اٹھاؤ منزلوں میدان خالی ہے
    شاد عظیم آبادی
  • قاصد پیامِ شوق کو دینا نہ اتنا طول
    کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں
    جلیل مانکپوری
  • تلوار کے تلے بھی ہیں آنکھیں تری اُدھر
    تو اس ستم کا میر سزاوار کیوں نہ ہو
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter