• حسرت ہے اُس کے دیکھنے کی دل میں بے قیاس
    اغلب کہ میری آنکھیں رہیں باز میرے بعد
    میر تقی میر
  • خزاں کا روپ بھی دلکش ہے آنکھیں ہوں تو کھل جائے
    تم ایسوں سے ابھی اے نوجاونو کم نہیں ہیں ہم
    شاد
  • چوندھیا جاتا ہے تیرے سامنے پیر فلک
    دیکھتا ہے عارض انور کو آنکھیں چیر کر
    برق
  • بگڑا مزاج یار کا آنکھیں بدل گئیں
    دن لطف کے گزر گئے اب کچھ مزا نہیں
    ریاض البحر
  • آب شور اشک کا آنکھیں بھی مری لے دوڑیں
    ان کے نتھ کے جو کبھی ہو گئے گوہر میلے
    انتخاب رامپور
  • آنکھیں بچھاتی جاتی تھیں پریاں قدم قدم
    جاری زباں پہ تھا کہ سلامت یہ دم قدم
    انیس
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter