• کل رات کیا عجیب سماں میرے گھر میں تھا
    آنکھیں تھیں محو خواب مدینہ نظر میں تھا
    مرے آقا
  • اس کے قربان جو دو آنکھوں سے چار آنکھیں دیں
    کرتی مضمون ہوں آنسو کی دعا سے پیدا
    جان صاحب
  • ہے نو بہار گلشن آفاق دیدنی
    آنکھیں کبھی تو اے دل بیہوش کھول دے
    مصحفی
  • تجھے تن زیب اور خاصہ پہناؤں
    تجھے فرش اپتی آنکھیں کر بٹھاؤں
    سودا
  • نہ لگتی آنکھ تجھ سے کاش ظالم کب تلک روؤں
    کہ آنکھیں دُکھنے آئیں اور مرے دیدے کھٹکتے ہیں
    جرأت
  • اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پُر آب روز و شب
    ٹپکا کرے ہے آنکھوں سے خوشاب روز و شب
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter