• بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں
    کوئی آنسو گرا تھا ، یاد ہوگا
    بشیر بدر
  • بھرے کچھ آنکھ میں آنسو پڑے کچھ حلق میں چھالے
    قفس میں یہ میسر مجھ کو آب ودانہ آتا ہے
    داغ
  • رونا بھی تھم گیا ترے غصہ کے خوف سے
    تھی چشم ڈیڈیائی پر آنسو نہ ڈھل سکے
    سوز
  • مرے لبوں پہ کوئی بوند ٹپکی آنسو کی
    یہ قطرہ کافی تھا جلتے ہوئے مکاں کے لیے
    بشیر بدر
  • بخل دیکھو تو میری تربت پر
    ایک آنسو بھی وہ گرانہ سکا
    نسیم دہلوی
  • جو عاشق پر تحمل کا جگر ہوجائے خوں سارا
    تو ناداں کی طرح بازار میں آنسو بہاوے کب
    دیوان حافظ ہندی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter