• دیکھا کچھ اس طرح سے کسی خوش نگاہ نے
    رخصت ہوا تو ساتھ ہی لیتا گیا وہ، نیند
    امجداسلام امجد
  • موت کا ایک دن معین ہے
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
    غالب
  • خوشبو کی طرح مجھ پہ جو بکھری تمام شب
    میں اس کی مست آنکھ سے چنتا رہا، وہ نیند
    امجداسلام امجد
  • شب کی جاگی ہوئی شبنم کو جو نیند آتی ہے
    پتا ہلتا ہے تو آنکھ اس کی اجٹ جاتی ہے
    منظور راے پوری
  • خفا ہے نیند آنکھوں میں سویرا کر لیا جائے
    غزل کا روپ دیکر ذکر تیرا کر لیا جائے
    قمر الدین احمد
  • فسانہ خواں دیکھنا شبِ زندگی کا انجام تو نہیں ہے
    کہ شمع کے ساتھ رفتہ رفتہ مجھے بھی کچھ نیند آرہی ہے
    عدم
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter