Shair

شعر

خلط کی خوبی، ہونٹ توڑ لیا
جسے چاہا اسے بھنبھوڑ لیا

(انشا)

ہونٹ ہلنے سے بھی پہلے جو یہ اڑجاتا ہے
جی میں پھرتا ہے مگر لب پہ نہیں آتا ہے

(پیارے صاحب رشید ،)

ترے ہونٹ خرما‘ نین تج بدام
ترے تل اہیں دانے ہور زلف دام

(قلی قطب شاہ)

درد کی رہگزار میں، چلتے تو کس خمار میں
چشم کہ بے نگاہ تھی، ہونٹ کہ بے خطاب تھے

(امجد اسلام امجد)

خوشبو اسی دہن کی بہ از عود و مشک ہے
سو کھے ہیں تیرے ہونٹ لہو میرا خشک ہے

(آرزو لکھنوی)

میں تو چپ ہوں وہ ہونٹ چاٹے ہے
کیا کہوں ریجھنے کی جا ہے یہ

(میر)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6
Pinterest Share